Al-Risala · December 2016 · page 24

ربانی پرسنالٹی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۴

ربانی پرسنالٹی

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں : والذي نفسي بيده لو أخطأتم حتى تملأ خطاياكم ما بين السماء والأرض، ثم استغفرتم الله لغفر لكم، والذي نفسي بيده لو لم تخطئوا لجاء الله بقوم يخطئون، ثم يستغفرون الله، فيغفر لهم (حديث نمبر 13493)۔ یعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تم اتنے گناہ کرو کہ تمہارے گناہوں سے زمین و آسمان کے درمیان کی فضا (space) بھر جائے، پھر تم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو تو وہ تم کو ضرور معاف کر دے گا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کرے، پھر وہ اللہ سے معافی مانگے تو اللہ اس کو معاف کر دے گا۔

اصل یہ ہے کہ کسی دینی عمل کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے اس کا کمیاتی پہلو (quantitative aspect)، دوسرا ہے اس کا کیفیاتی پہلو (qualitative aspect)۔ کسی عمل کا جو کمیاتی پہلو ہے، وہ اسی دنیا میں رہ جاتا ہے۔ انسان جب اس دنیا سے نکل کر آخرت کی دنیا میں جاتا ہے تو اس کے پاس اس کے عمل کا صرف کیفیاتی پہلو ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے عمل کے کیفیاتی پہلو کو دیکھے گا، نہ کہ اس کے عمل کے کمیاتی پہلو کو۔ عمل کے اس کیفیاتی پہلو کو قرآن میں قلبِ سلیم (الشعراء: 89) کہا گیا ہے۔ قلبِ سلیم کا لفظی مطلب سلامتی والا دل (sound heart) ہے۔ قلبِ سلیم سے مراد دوسرے الفاظ میں روحانی اعتبار سے ترقی یافتہ شخصیت (spiritually developed personality) ہے۔ آخرت میں خدا جنت کے اعتبار سے انسانوں کا انتخاب کرے گا۔ اس انتخاب کے لیے جو معیار ہوگا، وہ یہ ہوگا کہ انسان کی وہ داخلی پرسنالٹی کیسی ہے جس کو لے کر وہ آخرت میں پہنچا ہے۔ اس حدیث کے مطابق، انسان کے لیے خوف کے مقابلے میں رجاء (hope) کا پہلو غالب ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues

Printed page