Al-Risala · February 2016 · page 11

Sky is the limit

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۱

اسکولوں اور تعلیمی مرکزوں کی تعداد مختلف ملکوں میں تقریباً ڈیڑھ ہزار ہے۔ یہ تعلیمی ادارے تقریباً ایک سو ساٹھ ملکوں میں قائم ہیں۔ امریکا میں ان کا جو اسکول ہے وہ امریکا کے دس اعلی اسکولوں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

جدید ترکی کا میں عرصہ سے مطالعہ کر رہا ہوں۔ پہلی بار ترکی کے لیے میرا سفر مئی 2012 میں ہوا تھا۔ یہ سفر فتح اللہ گولن کے ادارہ کی دعوت پر ہوا تھا۔ دوسری بار امریکا کے سفر کے دوران جدید ترکی کے بارے میں مزید معلومات مجھے حاصل ہوئیں۔ اس مطالعے کا ایک پہلو وہ ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ فتح اللہ گولن صاحب اور ان کے ساتھیوں نے دور حاضر کے مواقع کو سمجھا، اور خاموش عمل کے ذریعے پوری دنیا میں اپنا ایک ایجوکیشنل ایمپائر قائم کر دیا۔ جو لوگ خلافت ترکی کے سقوط کو ملت کا نا قابل تلافی المیہ سمجھتے ہیں، ان کو معلوم نہیں کہ اس دنیا میں کوئی محرومی نا قابل تلافی محرومی نہیں ہوتی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ترکی نے پولیٹیکل ایمپائر کو کھویا، مگر اس کے بعد وہاں کے کچھ لوگوں نے زیادہ بڑے پیمانے پر ایجوکیشنل ایمپائر بنا لیا۔ امریکا کے لیے میرا یہ سفر دو ہفتے کے لیے تھا۔ اس دو ہفتے کے دوران میری ٹیم کمیونی کیشن کے ذریعے عالمی سطح پر دعوتی کام کرتی رہی۔ میں نے سوچا کہ یہ بھی دعوہ ایمپائر کی مثال ہے۔ اس دعوہ ایمپائر کے امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ یہ کہنا صحیح ہوگا :

Sky is the limit

قدیم زمانے میں کئی سیاسی ایمپائر بنائے گئے۔ ان میں سے ہر سیاسی ایمپائر محدود جغرافی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن کی ترقی نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ غیر سیاسی ایمپائر کو پوری دنیا میں قائم کیا جا سکے۔ حتی کہ اگر چاند اور مریخ پر انسان ہوں تو ماڈرن کمیونی کیشن کے ذریعے اس غیر سیاسی ایمپائر کا دائرہ وہاں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمان عصر حاضر کو سمجھیں، اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ یہ وقت کی سب سے زیادہ اہم ضرورت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page