Al-Risala · December 2016 · page 25

ربانی پرسنالٹی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۵

یہ حدیث اور اس طرح کی دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک عمل کے ظاہری مقدار کے مقابلے میں استغفار کا پہلو زیادہ اہمیت والا پہلو ہے۔ خطا کی مقدار خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، اگر آدمی استغفار کا ثبوت دیتا ہے تو اللہ کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ اس کو آخرت میں بخش دے گا۔ خطا کے بعد استغفار کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آدمی کی حساسیت (sensitivity) اگر زندہ ہو تو غلطی کرنے کے بعد اس کے اندر شدید طور پر ندامت (repentance) کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ اس کو اپنے گناہ پر بہت زیادہ شرمندگی ہوتی ہے۔ وہ مزید اضافہ کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہو جاتا ہے۔ وہ زیادہ تڑپتے ہوئے دل کے ساتھ اللہ سے مغفرت کا طالب بن جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو کسی خطا کار کے لیے اللہ کی رحمت کے نزول کا سبب بن جاتی ہے۔ آدمی اگر خطا نہ کرے تو اندیشہ ہے کہ اس کے اندر عجب (pride) کا جذبہ پیدا ہو جائے۔ لیکن جب اس سے کوئی خطا سرزد ہوتی ہے تو اس کے بعد اس کے اندر شرمندگی کی کیفیت جاگ اٹھتی ہے۔ احساس خطا کی بنا پر وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ بن جاتا ہے۔ اس کی تواضع (modesty) میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ وہ زیادہ انکساری کے ساتھ اللہ سے معافی کا طالب بن جاتا ہے۔ اس طرح خطا کا احساس آدمی کے اندر ایک نئی شخصیت بیدار کر دیتا ہے۔

خطا سے پہلے اگر وہ سادہ الفاظ میں دعا کرتا تھا، تو اب اس کی دعا آنسوؤں کی زبان میں ہونے لگتی ہے۔ خطا سے پہلے اگر اس کی نفسیات یہ ہوتی تھی کہ میں بھی کچھ ہوں تو اب اس کی نفسیات یہ بن جاتی ہے کہ میں کچھ بھی نہیں۔ خطا سے پہلے اگر اس کو اپنے عمل پر اعتماد ہوتا تھا تو اس کا احساس یہ بن جاتا ہے کہ میرا معاملہ تمام تر اللہ کے اوپر منحصر ہے۔ اللہ اگر مجھے معاف کر دے تو مجھ کو جنت نصیب ہو سکتی ہے۔ اور اگر اللہ معاف نہ کرے تو مجھ کو جنت ملنے والی نہیں۔

اس طرح خطا کا احساس آدمی کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر میں بہت زیادہ معاون بن جاتا ہے۔ خطا کا احساس آدمی کے اندر اس شخصیت کی تعمیر کرتا ہے جو اس کو جنت میں داخلے کا مستحق بنا دے۔ خطا کا احساس آدمی کو انسان اصلی (man cut to size) بنا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues

Printed page