Al-Risala · February 2016 · page 12

دورِ جنگ کا خاتمہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۲

دورِ جنگ کا خاتمہ

انسان کی تاریخ بظاہر جنگوں کی ایک تاریخ نظر آتی ہے۔ بیسویں صدی سے پہلے یہ جنگ ایک زمانی ضرورت ہو سکتی تھی مگر بیسویں صدی کے بعد انسانی زندگی میں جو انقلاب آیا ہے اُس کے بعد جنگ ایک غیر ضروری چیز بن چکی ہے۔ اب جنگ ایک قسم کا خلاف زمانہ فعل (anachronism) ہے۔ وہ سب کچھ جس کو حاصل کرنے کے نام پر پہلے جنگ کی جاتی تھی وہ اب جنگ کے بغیر زیادہ بہتر طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قدیم پر تشدد ذرائع کے مقابلہ میں جدید پر امن ذرائع کہیں زیادہ موثر اور نتیجہ خیز حیثیت رکھتے ہیں۔

قدیم زمانہ میں اتنی زیادہ جنگ کیوں ہوتی تھی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ حوصلہ مند لوگوں کو اپنے حوصلہ کی تسکین کے لیے اس کے سوا کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا تھا کہ وہ لڑ کر اپنا مقصد حاصل کریں۔ وہ جنگ اس لیے کرتے تھے کہ اُن کے سامنے بظاہر جنگ کا کوئی متبادل (alternative) موجود نہ تھا۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں دو ایسی چیزیں موجود تھیں جو لوگوں کے لیے جنگ کو گویا ناگزیر بنائے ہوئے تھیں۔ ایک، خاندانی بادشاہت اور دوسرے، زرعی اقتصادیات۔ قدیم زمانہ میں ہزاروں سال سے خاندان پر مبنی بادشاہت (family rule) کا طریقہ چلا آ رہا تھا۔ اس نظام کی بنا پر ایسا تھا کہ کسی سیاسی حوصلہ مند کے لیے اپنے سیاسی حوصلہ کی تسکین کی صرف ایک ہی صورت تھی۔ یہ کہ وہ موجود خاندانی حکمراں کو قتل یا معزول کر کے اُس کے تخت پر قبضہ کرلے۔ اس طرح ایک خاندان کے بعد دوسرے خاندان کی حکومت کا نظام ہزاروں سال تک دنیا میں چلتا رہا۔ موجودہ زمانہ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ تاریخ میں ایسے انقلابات پیش آئے جن کے نتیجہ میں خاندانی بادشاہت کا نظام ختم ہو گیا اور دنیا میں جمہوری حکمرانی کا نظام قائم ہوا۔ اب سیاسی حکمران دوری انتخابات (periodical election) کے ذریعہ چُنے جانے لگے۔ اس طرح ہر آدمی کے لیے اپنے سیاسی حوصلہ کے نکاس (outlet) کا موقع مل گیا، ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ پر امن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے یہ کوشش کرے کہ وہ کسی بھی دوسرے شخص کی طرح مقرر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page