دورِ جنگ کا خاتمہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۳
میعاد(term)کے کے لیے سیاسی اقتدار تک پہنچ جائے ۔
دوسرا بنیادی فرق وہ ہے جو اقتصادیات کے میدان میں ہوا ہے۔ قدیم زمانہ میں ہزاروں سال سے ایسا تھا کہ اقتصادیات کا سارا انحصار زمین پر مبنی ہوتا تھا۔ جس کے پاس زمین ہے وہ صاحب مال ہے۔ اور جس کے پاس زمین نہیں وہ صاحب مال بھی نہیں۔ مزید یہ کہ قدیم سیاسی نظام کے تحت، زمین کا اصل مالک بادشاہ ہوتا تھا، یا وہ جس کو بادشاہ جاگیر یا عطیہ کے طور پر زمین دے دے۔ ایسی حالت میں کسی اقتصادی حوصلہ مند کو اپنے حوصلہ کی تکمیل کی ایک ہی صورت نظر آتی تھی۔ یہ کہ وہ مالک زمین سے لڑ کر اُس سے زمین کو چھینے اور اُس پر قابض ہو کر اپنے اقتصادی حوصلہ کی تسکین حاصل کرے۔ قدیم زمانہ میں اس اعتبار سے کسی آدمی کے لیے بظاہر صرف دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ یا تو وہ مستقل غریبی پر قانع رہے یا جنگ کر کے زمین پر قبضہ حاصل کرے ۔ موجودہ زمانہ میں اس پہلو سے ایک نیا واقعہ ظہور میں آیا ہے جس کو صنعتی انقلاب (industrial revolution) کہا جاتا ہے۔ اس جدید انقلاب نے صورت حال کو یکسر بدل دیا۔ اب ہزاروں بلکہ ان گنت ایسے نئے اقتصادی ذرائع وجود میں آگئے ہیں جن کو استعمال کر کے ہر آدمی بڑی سے بڑی کمائی کر سکتا ہے۔ زمین کا مالک بنے بغیر وہ دولت کا مالک بن سکتا ہے۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ بڑی ہے کہ اُس کو بجا طور پور معاشی انفجار(economic explosion) کہنا درست ہوگا۔ یہ تبدیلی اتنی بڑی ہے کہ اُس نے انسانی زندگی کے سیاسی اور معاشی نظام کو آخری حد تک بدل ڈالا ہے۔ جو کچھ پہلے بظاہر ناممکن تھا، وہ اب پوری طرح ممکن ہو چکا ہے۔ پہلے جو چیز صرف خیالی نظر آتی تھی، وہ اب واقعہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ سیاسی اور اقتصادی اجارہ داری(monopoly) کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
اس انقلابی تبدیلی کے بعد اب کسی کے لیے جنگ کا کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ کوئی شخص جس اقتصادی یا سیاسی مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے، اُس کو وہ جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے، پُر امن طور پر حاصل کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں جنگ کرنے کی کیا ضرورت۔ اب جنگ اور تشدد کا طریقہ کسی آدمی کے لیے اپنی بے شعوری کا اعلان تو ہو سکتا ہے مگر وہ کسی مقصد کے حصول کا کوئی نتیجہ خیز ذریعہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues