منفی سوچ اسلام میں نہیں
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۴
منفی سوچ اسلام میں نہیں
ایک قوم کے اندر دوسری قوم کے خلاف منفی جذبات اُس وقت پیدا ہوتے ہیں، جب کہ پہلی قوم اپنی کسی مصیبت کا ذمے دار دوسری قوم کو سمجھ لے۔ مگر اسلام میں اس قسم کی منفی سوچ کی قطعاً گنجائش نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا نے قرآن میں حتمی طور پر اعلان کیا ہے کہ جو بھی مصیبت تمہارے اوپر آتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ (الشوری: 30) اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق، کوئی مصیبت پیش آنے پر صرف یہ کرنا ہے کہ ذاتی احتساب (self-introspection) کر کے اپنی جانب کی کوتاہی کو معلوم کیا جائے جو کہ اصل وجہ ہے۔ اور پھر اس کو درست کیا جائے۔ اس کے برعکس، اپنی مصیبت کا ذمے دار کسی دوسرے کو قرار دے کر اس کے خلاف نفرت اور انتقام میں مبتلا ہونا، اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔ پیغمبر اسلام کی حدیثوں میں بھی یہ حقیقت مختلف انداز سے بیاں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہ ہے : لا زلتم منصورين علی أعدائكم مادمتـم متمسكين بسـنتي، فان خرجتم عن سنتى سلّط الله عليكم من لا يخافكم ولا يرحكم، حتى تعودوا الى سنتی (صحیح مسلم) یعنی تم اپنے دشمنوں پر اس وقت تک غالب رہو گے جب تک میری سنت کو پکڑے رہو گے۔ اور جب تم میری سنت سے نکل جاؤ گے تو اللہ تمہارے اوپر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا جو نہ تم سے ڈرے گا، اور نہ تم پر رحم کرے گا یہاں تک کہ تم میری سنت کی طرف لوٹ آؤ۔ قرآن سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دشمن خود مسلمانوں کی اپنی غلطی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس سے باہر، خارجی مسئلے کی حیثیت سے، دشمن کا کوئی وجود نہیں۔ قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے : وان تصبرواوتتّقوا لایضّرکم کیدھم شيئاً (آل عمران: 120) یعنی اگر تم صبر کرو، اور تقوی اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ اہلِ ایمان کے لیے اصل مسئلہ، سازش کی موجودگی نہیں ہے بلکہ صبر اور تقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues