Al-Risala · February 2016 · page 15

منفی سوچ اسلام میں نہیں

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۵

اگر اہل ایمان کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پائی جائے تو وہ پوری طرح دشمنوں کی سازش سے محفوظ رہیں گے۔ انھیں دوسروں کی طرف سے کوئی گزند پہنچنے والا نہیں۔

اس اصول کی عملی مثال بھی قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ ایک مثال غزوہ اُحد کی ہے۔ پیغمبر اسلام کی ہجرت کے تیسرے سال غزوہ احد پیش آیا۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا۔ یہ غزوہ واضح طور پر پیغمبر اسلام کے مخالفین کی زیادتی کی بنا پر پیش آیا۔ اس کا ایک کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ یہ غزوہ مدینہ کی سرحد پر ہوا۔ یعنی مخالفین اپنے وطن مکہ سے تین سومیل کا فاصلہ طے کر کے جارحانہ طور پر مدینہ آئے اور مسلمانوں کے وطن پر حملہ کیا۔ لیکن قرآن میں جب غزوہ احد پر تبصرہ کیا گیا تو اس میں مخالفین کے ظلم اور سازش کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا بلکہ یہ کہا گیا کہ مسلمانوں کی خود اپنی داخلی کوتاہی کے نتیجے میں یہ شدید نقصان انھیں بھگتنا پڑا۔

غزوہ احد کے بارے میں قرآن کا یہ تبصرہ، قرآن کی سورہ نمبر 3 میں اس طرح آیا ہے: حَتَّیٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ (آل عمران : 152)۔ یعنی جب تم کمزور پڑ گئے اور معاملے میں اپنے درمیان اختلاف کر لیا۔ قرآن کی اس آیت میں واضح طور پر مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ اُحد کی شکست اور نقصان کا ذمہ دار وہ دوسروں کو قرار نہ دیں۔ بلکہ خود اپنے آپ کو اس کا ذمے دار سمجھ کر اپنی اصلاح کریں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے خدا کے ایک اور قانون کو جاننا بہت ضروری ہے۔ اس قانون کا تعلق مخصوص طور پر اہل کتاب سے ہے۔ اس خدائی قانون کا اطلاق ، پیغمبر اسلام کے ظہور سے پہلے، سابق اہل کتاب، یہود پر ہوا اور اب اس خدائی قانون کا تعلق مسلم اُمت سے ہو گیا ہے جو کہ پیغمبر آخرالزماں کے ظہور کے بعد اہل کتاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس خدائی قانون کے تعلق سے یہود کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 17 میں اس طرح آیا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دوبارہ زمین (شام) میں خرابی کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے ۔ پھر جب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے ۔ نہایت زور والے ۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page