منفی سوچ اسلام میں نہیں
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۶
باری ان پر لوٹادی اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنادیا۔ اگر تم اچھا کرو گے تو تم اپنے لیے اچھا کرو گے اور اگر تم برا کرو گے تب بھی اپنے لیے بُرا کرو گے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں گھس جائیں۔ جس طرح اس میں پہلی بار گھسے تھے، اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کردیں۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے۔ اور ہم نے جہنم کو منکرین کے لیے قید خانہ بنادیا ہے۔ (بنی اسرائیل: 8-4) اس آیت میں یہود کی تاریخ کے دو ایسے واقعے کا ذکر ہے جب کہ غیر یہودی حکمراں نے یہودی قوم کے اوپر چڑھائی کرکے ان کو سخت تباہی سے دوچار کیا۔ پہلا واقعہ 586 قبل مسیح میں (عراق) کے غیر یہودی حکمراں نبوگدنصر (Nebuchadnezar) کے ذریعے پیش آیا، اور دوسرا واقعہ 70 عیسوی میں رومی بادشاہ تیتس (Titus) کے ذریعے ۔ مگر قرآن میں ان دونوں واقعات کو ظلم کا واقعہ نہیں بتایا گیا۔ یعنی یہ نہیں کہا گیا کے فلاں ظالم حکمراں نے مظلوم یہودیوں کے اوپر متشددانہ کارروائی کی۔ اس کے برعکس، ان واقعات کو خدا نے اپنی طرف منسوب کیا۔ یعنی یہ کہ وہ خدا کے بندے تھے جو خدا کے منصوبے کی تکمیل کے لیے فلسطین بھیجے گئے۔
قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کا معاملہ بھی وہی ہے جو اس سے پہلے یہود کا معاملہ تھا۔ یعنی ایسا ہو سکتا ہے کہ جب مسلمانوں میں بگاڑ آجائے تو خدا اپنے بندوں میں سے کسی بندے کے ذریعے مسلمانوں کے اوپر تنبیہی عذاب بھیجے ۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس کو ظالم کا ظلم نہ سمجھیں، بلکہ خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی تنبیہی سزا سمجھیں۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی کو ظالم فرض کرکے اس کے خلاف نفرت اور تشدد کا سلسلہ شروع نہ کریں، ذاتی احتساب کے ذریعے اپنی اصلاح میں لگ جائیں۔ اسلام کے ظہور کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے اندر ذاتی احتساب کی یہی سوچ غالب رہی۔ پرنٹنگ پریس اور میڈیا کے دور سے پہلے مسلمانوں کے لیے پڑھنے اور مطالعہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues