منفی سوچ اسلام میں نہیں
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۷
کرنے کی چیز زیادہ تر قرآن اور حدیث ہوا کرتا تھا۔ اس لیے ان کی سوچ وہی بنتی تھی جو قرآن اور حدیث کی مذکورہ تعلیم کے مطابق ہو۔ ہر ایسے موقع پر وہ محاسبہ خویش میں مبتلا ہو جاتے تھے نہ کہ دوسروں کو ملزم ٹھہرا کر ان کے خلاف نفرت اور انتقام کی باتیں کرنے لگیں۔ یہاں اس سلسلے میں پچھلی تاریخ کی دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔
تیرھویں صدی میں یہ واقعہ ہوا کہ ترکستان کے پہاڑی علاقے میں بسنے والے جنگ جو تاتاری قبائل مسلم سلطنت کے حدود میں داخل ہوئے۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر حلب تک پورے علاقے کو تباہ کر دیا۔ ہر طرف آگ اور خون کے مناظر دکھائی دینے لگے۔ بظاہر یہ دوسروں کی طرف سے جارحیت کا معاملہ تھا مگر اس زمانے کے علماء نے اس معاملے میں وہ منفی انداز اختیار نہیں کیا جو موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اس طرح کے معاملات میں عام طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مشہور مسلم مؤرخ عز الدین ابن الاثیر (وفات: 1232ء) تاتاری حادثے کے زمانے میں موجود تھے۔ انھوں نے خود ذاتی تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر اپنی کتاب ’الکامل فی التاریخ‘ میں اس واقعہ کی تفصیل بیان کی ہے۔ ابن الاثیر نے اس واقعے کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”کون ہے جس کے لیے آسان ہو کہ اسلام اور مسلمانوں کی ہلاکت کی داستان لکھے۔ اور کون ہے جس کے لیے اس کا ذکر آسان ہو۔ کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا، اور کاش میں اس سے پہلے مر گیا ہوتا اور ختم ہو گیا ہوتا۔ اگر کوئی کہے کہ جب آدم پیدا کیے گیے، اس وقت سے لے کر اب تک ایسا حادثہ انسانیت پر نہیں آیا تو یقیناً وہ سچا ہوگا۔ “ تاہم ابن الاثیر نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی طرح یہ نہیں کیا کہ وہ تاتاری حملہ آوروں کے خلاف نفرت اور انتقام کی بولی بولنے لگیں۔ اور ان کو مجرم قرار دے کر ان کو بد دعائیں دیں۔ اس کے برعکس ابن الاثیر نے جو کیا وہ یہ تھا کہ انھوں نے خود مسلمانوں کو اس حادثے کا سبب قرار دیا۔ انھوں نے لکھا کہ ایران کے مسلم حکمراں خوارزم شاہ نے تاتاری تاجروں کو قتل کروایا اور ان کے مال کو لوٹ لیا۔ یہ خبر جب تاتاری سردار چنگیز خاں کو پہنچی تو اس نے قسم کھا کر اعلان کیا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues