منفی سوچ اسلام میں نہیں
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۸
کہ وہ مسلم سلطنت کو تباہ کرکے رہے گا۔ چناں چہ اس نے غضب ناک ہو کر سمرقند کی طرف سے مسلم سلطنت پر حملہ کر دیا، جس کی تکمیل اس کے پوتے ہلاکو خاں نے کی۔ (ابن الاثیر، الکامل فی التاريخ، جلد 12، صفحہ 362)
دوسری مثال لیجیے۔ نادر خاں (وفات: 1747) ایران کا بادشاہ تھا۔ وہ ظلم اور سخت گیری کے لیے مشہور ہے۔ اس نے 1739 میں ہندوستان پر حملہ کیا، اور پیش قدمی کرتا ہو ا دہلی پہنچ گیا۔ اس نے دلیٰ میں فتح حاصل کرنے کے بعد یہاں قتل عام کروایا۔ اس کا اصل مقصد یہاں سونا چاندی لوٹنا تھا۔ چناں چہ اس نے یہی کیا۔ قتل عام کے بعد تخت طاؤس اور کوہ نور ہیر ا اور دوسرے قیمتی اموال لے کر وہ اپنے وطن واپس چلا گیا۔
اس سنگین واقعے پر بھی اُس وقت کے مسلم علماء کا رد عمل موجودہ مسلمانوں جیسا نہیں تھا۔ بلکہ انھوں نے اس کو احتساب کے خانے میں ڈال دیا۔ اس زمانے کے ایک مشہور بزرگ مرزا مظہر جانِ جہاں (وفات: 1586ء) نے نادر خاں کے واقعے پر اپنا یہ تبصرہ کیا کہ نادر خاں نے جو کچھ کیا وہ نادر خاں کا ظلم نہ تھا بلکہ یہ خود ہمارے اعمال تھے جنھوں نے نادر خاں کی صورت اختیار کرلی: شامت اعمال ما، صورت نادر گرفت یہ صرف موجودہ زمانے کی بات ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے مذکورہ قسم کے واقعات پر فوراً منفی رد عمل اختیار کرلیتے ہیں۔ آج کل مسلمانوں کے جس اخبار یا میگزین کو دیکھا جائے تو ہر ایک میں یہ ملے گا کہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے واقعات کو دوسری قوموں کے ظلم کے طور پر پیش کیا جار ہا ہوگا۔ اس قسم کی منفی رپورٹنگ اتنی عام ہے کہ اس میں غالباً کوئی استثناء نہیں۔ میرے تجربے کے مطابق، منفی رپورٹنگ کا یہ طریقہ زیادہ تر موجودہ زمانے میں پرنٹ میڈیا کا دور آنے کے بعد شروع ہوا۔ جدید صحافت میں خبروں کی رپورٹنگ کا ایک خاص طریقہ ہے جس کو اُلٹا اہرام (Inverted Pyramid) کہا جاتا ہے۔ یعنی کسی واقعے کے نقطۂ انتہا سے خبر کی رپورٹنگ کا آغاز کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues