Al-Risala · February 2016 · page 19

منفی سوچ اسلام میں نہیں

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۹

مثلاً نئی دہلی میں دو آدمیوں کے درمیان ایک مالی معاملے میں جھگڑا ہو، وہ بڑھ کر دشمنی بن جائے اور پھر ان میں سے ایک آدمی دوسرے کو مار ڈالنے کے درپے ہو جائے۔ وہ اس کا پیچھا کرنے لگے یہاں تک کہ ایک دن وہ اس کو ایک پارک میں تنہا پا جائے اور اس کو قتل کر دے۔ اس واقعے کی خبر اگلے دن اخبار میں آئے تو ایسا نہیں ہوگا کہ کہانی کو اس کی واقعاتی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جائے اور پھر آخر میں قتل کی بات لکھی جائے۔ اس کے برعکس خبر کا پہلا جملہ یہ ہوگا: نئی دہلی کے پارک میں قتل۔

واقعہ نگاری کا یہ طریقہ فطرت کے خلاف ہے۔ مثلاً قرآن جو کتابِ فطرت ہے اس میں واقعہ نگاری کی ایک مثال سورہ نمبر 12 میں ملتی ہے۔ اس سورہ میں پیغمبر یوسف کے حالات بتائے گئے ہیں۔ مگر اس میں جو اسلوب ہے وہ واقعے کی تاریخی ترتیب کے مطابق ہے۔ واقعہ نگاری کے اس اسلوب میں قاری کا ذہن وہی بنتا ہے جو فطری طور پر اس کا ذہن بننا چاہیے۔ اس کے برعکس مذکورہ صحافتی ترتیب میں قاری کا ذہن غیر فطری ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں واقعہ کا وہ نقشہ نہیں بنتا جو حقیقت کے اعتبار سے تاریخ کا نقشہ ہے۔

رپورٹنگ کے مذکورہ صحافتی طریقے کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہانی کے نصف ثانی کو نمایاں طور پر بیان کرنا، اور اس کے نصف اوّل کو یا تو غیر مذکور چھوڑ دینا یا اس کو ناقص صورت میں بیان کرنا۔ جدید رواج کے مطابق، مسلمانوں کی صحافت میں بھی یہی طریقہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اختیار کر لیا گیا۔ اور پھر وہ اتنا زیادہ عام ہوا کہ موجودہ پریس کے زمانے میں ہر لکھنے اور بولنے والا مسلمان اسی اصول پر لکھنے اور بولنے لگا۔ حالاں کہ یہ غیر فطری طریقہ، اسلام میں نہایت برا سمجھا گیا ہے اور اس کو تطفیف (المطففین: 1) کہا گیا ہے۔

رپورٹنگ کے اس طریقے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا مسلم میڈیا، منفی خبروں سے بھر گیا۔ یہی منفی خبریں ہیں جن کو پڑھ کر ساری دنیا کے مسلمانوں کا ذہن منفی بن گیا۔ اور یہی منفی ذہن ہے جو اپنے نقطہ انتہاء پر پہنچ کر وہ خوف ناک تشدد بن جاتا ہے، جس کو القاعدہ یا داعش (آئی ایس آئی ایس) یا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page