منفی سوچ اسلام میں نہیں
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۰
بوکو حرام، وغیرہ جیسے ناموں سے جانا جاتا ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے 1967 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں مصر کو زبردست شکست ہوئی اور اسرائیل نے پیش قدمی کر کے اپنے رقبے کو بہت زیادہ بڑھا لیا۔ اس واقعے پر عربی، فارسی، انگریزی اور اُردو زبان میں جو رپورٹیں چھپیں یا اس واقعے پر مسلمانوں کی جو کتابیں شائع ہوئیں ان سب میں متفقہ طور پر ایک ہی بات کہی گئی تھی، اور وہ یہ کہ اسرائیل نے مغربی قوموں سے سازش کر کے ظالمانہ طور پر مصر کے اوپر حملہ کیا اور فلسطین میں اپنی وسیع تر حکومت قائم کر لی۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ اصل کہانی کا صرف نصف آخر ہے۔ کہانی کا نصف اول اس میں شامل نہیں۔ کہانی کے نصف آخر کو سامنے رکھیے تو بظاہر یہ معلوم ہوگا کہ یہ اسرائیل کی طرف سے ایک ظلم کا واقعہ تھا۔ لیکن اگر کہانی کے نصف اول کو شامل کر کے غور کیا جائے تو برعکس طور پر یہ معلوم ہوگا کہ 1967 میں جو کچھ ہوا اس کی ذمے داری مکمل طور پر خود عربوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ خود عرب قیادت کا ایک نادان اقدام تھا جس کی قیمت اسے ذلت اور بربادی کی شکل میں بھگتنی پڑی۔
1967 میں عربوں کے ساتھ جو المیہ پیش آیا اس پر پیغمبر اسلام کے یہ الفاظ پوری طرح صادق آتے ہیں: لا ينبغي للمسلم أن يذل نفسه، قيل: و كيف يذل نفسه، قال: يتعرّض من البلاء لما لا يطيق (مسند احمد، حدیث نمبر: 23444) یعنی کسی مسلم کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ خود اپنے آپ کو ذلیل کرے ۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ایک ایسی بلا سے تعرض کرے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ 1967 کی جنگ میں عین یہی صورت پیش آئی۔
یہ قصہ نہر سوئز کی کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ نہر سوئز کو مغربی کمپنیوں نے بنایا تھا۔ جو مکمل ہو کر نومبر 1869 میں جہاز رانی کے لیے کھولی گئی۔ نہر سوئز کا ٹھیکہ برطانیہ اور فرانس کی ایک مشترکہ کمپنی کو حاصل تھا۔ نہر سوئز برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ کمپنی کو پٹے کے طور پر دی گئی تھی۔ یہ پٹہ (lease) 1968 میں ختم ہو رہا تھا۔ اس کے بعد حسب معاہدہ ، نہر سوئز پوری طرح حکومت مصر کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues