Al-Risala · February 2016 · page 21

منفی سوچ اسلام میں نہیں

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۱

ملکیت میں آجاتی۔ پٹے کے ختم ہونے سے پہلے بھی مصری حکومت اور مصری عوام کو اس کے ذریعے بہت سے مالی فائدے مل رہے تھے۔

مگر پٹہ ختم ہونے سے پہلے مصر کے صدر جمال عبدالناصر (وفات: 1970) نے تمام عربوں کی تائید سے ایک اشتعال انگیز واقعہ کیا۔ 29 اکتوبر 1956 کو انھوں نے اچانک یہ اعلان کر دیا کہ آج ہم نے نہر سوئز کو نیشنلائز کر لیا۔ اور اب اس کی ساری آمدنی حکومت مصر کو حاصل ہوگی۔ (844/ جمال عبدالناصر کے اقدام پر سارا عرب رقص کر اٹھا۔ مگر برطانیہ اور فرانس کے لیے وہ ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔ چناں چہ برطانیہ اور فرانس نے خفیہ طور پر اسرائیل کی بہت بُری مدد کی ۔ اور اس کے ذریعے مصر پر حملہ کرا دیا ۔ اس حملے میں مصر کی فوجی طاقت کچل کر رہ گئی۔ اسرائیل نے مزید اطراف کے علاقوں پر قبضہ کر کے اپنے رقبے کو پانچ گنا بڑھا لیا۔

جمال عبدالناصر اگر اس معاملے میں 12 سال انتظار کرتے تو سوئز کمپنی معاہدے کے مطابق، اپنے آپ ختم ہو جاتی ۔ مگر ان کے عاجلانہ اقدام نے مصر کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ اور اسرائیل کا رقبہ بہت زیادہ بڑھ گیا۔ جو چیز 1968 میں اپنے آپ مل جاتی اس کو 1956 میں پیشگی طور پر حاصل کرنے کی کوشش مصر کے حق میں الٹی ثابت ہوئی۔

اس طرح اس کہانی کے دو حصے ہیں۔ اس کا ایک حصہ وہ ہے جو نہر سوئز کو غیر حکیمانہ طور پر قبضے میں لینے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو نہر سوئز پر غیر حکیمانہ قبضے کے بعد بطور ردِ عمل پیش آیا۔ اگر اس کہانی کے صرف نصف ثانی کو دیکھا جائے تو اسرائیل ظالم اور سرکش دکھائی دے گا۔ لیکن اگر اس کہانی کے نصف اول کو ملا اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ مصر اسرائیل جنگ کے بعد عربوں کے ساتھ جو بڑی صورتِ حال پیش آئی وہ خود عربوں کی اپنی نادانی کا نتیجہ تھی۔ اس معاملے میں عربوں کا کیس عمل کا کیس ہے اور اسرائیل کا کیس ردِ عمل کا کیس۔ اسرائیل کا مزید استحکام، دراصل خود عربوں کی اپنی ناعاقبت اندیشانہ پالیسی کی قیمت تھی جو انھوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page