Al-Risala · February 2016 · page 22

منفی سوچ اسلام میں نہیں

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۲

ادا کی۔ مگر غلط رپورٹنگ کی بنا پر ایسا ہوا کہ تمام مسلمان، اسرائیل سے نفرت میں مبتلا ہو گئے۔ حالاں کہ اصل صورت حال کے مطابق، انھیں خود اپنے احتساب میں مصروف ہونا چاہیے تھا۔ ایک تقابلی مثال سے یہ معاملہ بخوبی طور پر سمجھ میں آ سکتا ہے۔ یہ مثال وہ ہے جو ہانگ کانگ سے تعلق رکھتی ہے۔ برطانی استعمار کے زمانے میں انگریزوں نے ہانگ کانگ کو پٹے پر 99 سال کے لیے لیا تھا۔ پٹے کی یہ مدت 1997 میں ختم ہو رہی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانی ایمپائر کمزور ہوا تو چین نے ہانگ کانگ کی واپسی کا مطالبہ شروع کر دیا۔ مگر چین نے اپنے آپ کو گفت و شنید کی حد تک محدود رکھا۔ اس نے کبھی اس معاملے میں یہ پروگرام نہیں بنایا کہ وہ ہانگ کانگ میں اپنی فوجیں داخل کر کے اس پر قبضہ کر لے۔ اگر چہ ہانگ کانگ کا جزیرہ چین سے ملا ہوا ہے۔ برطانوی حکومت سے چین کی یہ گفت و شنید جاری رہی۔ یہاں تک کہ 1997 میں جب پٹے کی مدت پوری ہوئی تو ہانگ کانگ سے برطانیہ کا اقتدار بھی ختم ہو گیا۔ ہانگ کانگ اب چین کے باقاعدہ قبضے میں ہے۔ 1967 کی جنگ میں، اسرائیل نے فلسطین، اردن، شام اور مصر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ عربوں (فلسطین، اردن، شام، مصر) نے اس جنگ میں اپنا قیمتی علاقہ کھو دیا۔ مگر ٹھیک اسی قسم کی صورت حال میں ہانگ کانگ میں برعکس نتیجہ سامنے آیا۔ یہاں چین نے ایک قیمتی جزیرے کو اپنے علاقے میں شامل کر لیا۔ عربوں نے اپنی نا عاقبت اندیشانہ منصوبہ بندی کی قیمت ادا کی اور چین نے اپنی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کی بنا پر قابل ذکر فتح حاصل کی۔

مذکورہ تفصیل بتاتی ہے کہ اسرائیل کا مسئلہ دراصل کسی کے ظلم یا سازش کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ خود عربوں کی اپنی نادانیوں کا نتیجہ تھا۔ موجودہ زمانے کا متشددانہ جہاد سب سے زیادہ فلسطین کی زمین سے ابھرا ہے۔ تمام عرب اور تمام مسلمان اس جہاد کو انصاف کی لڑائی سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ایک غیر عاقلانہ اقدام کے نقصان کی تلافی، ایک اور غیر عاقلانہ اقدام سے کرنے کے ہم معنیٰ ہے۔ اس قسم کا ہر اقدام فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ خدا کی اس دنیا میں ایسا اقدام کبھی کامیاب ہونے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page