Al-Risala · February 2016 · page 23

صبر کو فلسفہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۳

صبر کو فلسفہ

پیغمبر اسلام کی تعلیمات میں صبر (patience) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن میں تقریباً ایک سو دس آیتیں ہیں جن میں صبر کے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ صبر ہی پر کامیابی کا مدار رکھا گیا ہے۔ چناں چہ ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو صبر کرو تا کہ تم فلاح پاؤ (آل عمران: 200) اسی طرح فرمایا کہ امامت یا لیڈر شپ میں کامیابی کا راز صبر ہے۔ (السجدہ: 24) اسی حقیقت کو پیغمبر اسلام نے اپنی ایک لمبی حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا: اعلم أن النصر مع الصبر (مسند احمد، حدیث نمبر: 2803) یعنی جان لو کہ کامیابی صبر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ صبر نہیں تو کامیابی نہیں۔ کامیابی کا درخت ہمیشہ صبر کی زمین پر اگتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کے تمام پیسفسٹ (pacifist) یا پیس فل ایکٹیوسٹ (peaceful activist) اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کا مشترک سبب یہ ہے کہ انہوں نے امن کو دریافت کیا مگر وہ صبر کو دریافت نہ کر سکے۔ حالاں کہ صابرانہ روش کے بغیر پرامن تحریک کو چلانا ممکن نہیں۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ کسی کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر اس کے خلاف تحریک چلاتے ہیں۔ کسی گروہ کے مقابلے میں پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر تحریک چلانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے دل میں اس کے خلاف منفی جذبات نہ ہوں، اس کے مقابلے میں آپ مکمل طور پر مثبت نفسیات کے حامل ہوں۔ یہی واحد بنیاد ہے جس کے اوپر پیس فل ایکٹوزم کی سرگرمیاں جاری ہو سکتی ہیں۔ مد مقابل گروہ کے لیے آپ کے دل میں اگر مثبت جذبات نہ ہوں تو آپ کبھی اپنے پرامن مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ عملاً یہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے مقابلے میں پرامن طریق کار کی بنیاد پر ایک تحریک اٹھاتا ہے۔ لیکن فریق ثانی کی مفروضہ یا غیر مفروضہ زیادتیوں کا احساس فریق اول کے خلاف اس کے دل میں نفرت ڈال دیتا ہے۔ یہ نفرت دھیرے دھیرے تشدد کی صورت اختیار کر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page