Al-Risala · February 2016 · page 24

صبر کو فلسفہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۴

لیتی ہے، اور اگر تشدد کے ذریعے مطلوب کامیابی نہ مل رہی ہو تو فریقِ اول کے دل میں فریقِ ثانی کے خلاف نفرت کا طوفان اس کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ اس کے خلاف ہر ممکن تخریبی کارروائی شروع کر دے، یہاں تک کہ اس کو مٹانے کے لیے اُس قسم کی بھیانک کارروائی کرنے لگے جس کو موجودہ زمانے میں خود کش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے۔

پیس فل ایکٹوزم کے سلسلے میں یہ بات غالباً پوری تاریخ میں صرف پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں ملتی ہے۔ دوسرے مصلحین کی طرح ان کو بھی فریقِ ثانی کی طرف سے سخت قسم کی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا مگر آپ نے کبھی اُن کے خلاف نفرت کی زبان استعمال نہیں کی۔ اپنے ساتھیوں کو بھی آپ ہمیشہ نفرت کے احساس سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ آپ کی زندگی میں اس طرح کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر مکہ میں پیغمبرِ اسلام کے ساتھیوں کا ایک خاندان تھا، جس کو آل یاسر کہا جاتا تھا۔ یہ ایک کمزور خاندان تھا۔ چناں چہ آپ کے طاقت ور مخالفین نے اُنہیں مارنا پیٹنا شروع کیا اور کہا کہ پیغمبر کا ساتھ چھوڑ دو۔ پیغمبرِ اسلام نے اس منظر کو دیکھا تو آپ نے زیادتی کرنے والوں کے خلاف کوئی نفرت کا کلمہ نہیں کہا بلکہ آپ نے ان سے صرف یہ فرمایا: صبرا آل یاسر فان موعدکم الجنة (سیرت ابن ہشام، 1/320) یعنی اے آل یا سر صبر کرو، کیوں کہ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔

جنت کو صبر کا انعام بتا کر آپ نے اپنے ساتھیوں کو اس کے لیے آمادہ کیا کہ وہ کسی بھی زیادتی پر مشتعل نہ ہوں۔ وہ کسی بھی حال میں فریقِ ثانی کے خلاف اپنے دل میں منفی جذبات کی پرورش نہ کریں۔ یہ پیغمبر اسلام کی پالیسی کا نہایت اہم پہلو تھا جس کو آپ نے خدا کی رہنمائی کے مطابق اختیار کیا۔ یعنی مخالفوں کی ہر زیادتی پر صبر کرنا۔ قرآن میں اس سلسلے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں، مثلاً قرآن میں پیغمبر کی زبان میں فرمایا: ولنصبرن علی ما آذيتمونا (ابراہیم: 12) یعنی ہم تمہاری ایذاؤں پر صرف صبر ہی کریں گے۔ یہ صبر کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ فریقِ ثانی کی ظالمانه کارروائی کے با وجود مثبت سوچ پر قائم رہنا، اپنے آپ کو اس سے بچانا کہ اپنے ذہن میں فریقِ ثانی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page