Al-Risala · February 2016 · page 25

صبر کو فلسفہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۵

کی منفی تصویر بن جائے۔ کیوں کیوں کے فریق اول کے دل میں اگر فریق ثانی کی منفی تصویر بن جائے تو فریق اول کبھی فریق ثانی کے درمیان پر امن طریقہ کار کے اصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ صبر کا اصول فریق اول کو اس سے بچاتا ہے کہ اس کا ذہن فریق ثانی کے بارے میں غیر معتدل ہو جائے۔ پر امن طریقہ کار (peaceful activism) معتدل ذہن کا اظہار ہے۔ غیر معتدل یا منفی ذہن کبھی پر امن طریقہ کار کو کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا۔ صبر کا اصول در اصل اسی اعتدال یا مثبت مزاج کی برقراری کی ایک یقینی گارنٹی ہے۔

پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کے ساتھ مخاطب گروہ کی طرف سے مسلسل زیادتیاں کی گئیں، لیکن آپ ہمیشہ سختی کے ساتھ صبر کے اصول پر قائم رہے۔ اور اپنے ساتھیوں کو اسی کی تلقین کی۔ آپ کی مجلسوں میں کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ مخالفین کے ظلم کا چرچا کیا جائے۔ آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ مخالفین کے ظلم کے حوالے سے ان کے خلاف بد دعائیں کریں۔ اس کے برعکس آپ ہمیشہ ظلم کرنے والوں کے خلاف اچھی دعا کرتے تھے۔ آپ نے اپنے مخالفوں کو کبھی کافر یا دشمن نہیں کہا، بلکہ ہمیشہ ان کے بارے میں انسان کا لفظ بولتے رہے۔ اس معاملے کی ایک انتہائی مثال یہ ہے کہ ایک بار آپ کے مخالفوں نے پتھر مار کر آپ کو زخمی کر دیا، اُس وقت آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اللهم اهد قومى، فإنهم لا يعلمون۔ (شعب الایمان للبیھقی: 2/622) خدایا! میری قوم کو ہدایت دے، کیوں کہ وہ جانتے نہیں۔

یک طرفہ صبر اور خیر خواہی کا طریقہ جو آپ نے عرب میں اختیار فرمایا، وہ اسی لیے تھا کہ فریق ثانی کے بارے میں آپ، یا آپ کے ساتھیوں کے دل میں شکایت اور نفرت کی نفسیات پیدا نہ ہونے پائے۔ کیوں کہ جو ذہن شکایت اور نفرت لیے ہوئے ہو، وہ اصلاح کا کام درست طور پر نہیں کر سکتا۔ عقل مند آدمی وہ ہے جو ان چیزوں کے ساتھ پر امن طور پر رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page