Al-Risala · February 2016 · page 26

حمد کلچر

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۶

حمد کلچر

قرآن کی ایک آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الفاتحة: 2) یعنی ساری حمد اللہ رب العالمين کے لیے ہے۔ یہ آیت دنیا کی زندگی میں اہل ایمان کے روز وشب کا حال بتاتی ہے۔ اہلِ جنت جب آخرت میں پہنچیں گے اور جنت میں داخل کردئے جائیں گے تو وہاں ان کا مشغلہ کیا ہوگا، اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (یونس: 10) یعنی وہاں ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔ اہل جنت کا ایک اور قول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (الفاطر: 34) یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ ان آیتوں پر غور کیجئے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت دنیا میں کس طرح زندگی گزاریں گے۔ اور پھر آخرت میں ان کو کس قسم کی زندگی حاصل ہوگی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی ان کی زندگی، حمد رب کی زندگی ہوگی، اور آخرت میں بھی ان کے صبح وشام رب العالمين کی حمد میں گزریں گے۔ فرق یہ ہے کہ دنیا میں انھوں نے حمد رب کی زندگی دار الكبد (البلد: 4) میں گزاری ہوگی، آخرت میں ان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ حزن سے خالی دنیا (الفاطر: 34) میں اعلیٰ معیاری درجے میں حمد رب کی توفیق پائیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلے کی قیمت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ذہنی طور پر اتنا ارتقا یافتہ بنائے کہ وہ حزن اور کبد کے حالات میں بھی اعلیٰ معرفت کی سطح پر زندگی گزارے۔ گویا کہ انسان سے جو چیز اصلاً مطلوب ہے، وہ حمد رب ہے۔ دنیا میں بھی حمد، آخرت میں بھی حمد۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کی رحمت (blessing) کا نتیجہ ہے۔ پھر پیدا ہونے کے بعد جس دنیا میں وہ زندگی گزارتا ہے، وہ پوری کی پوری رحمتوں کی دنیا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے واحد طرزِ زندگی صرف یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ اس حقیقت کو یاد رکھے، وہ ہر موقع (occasion) پر اللہ کی بے پایاں رحمت کا اعتراف کرے۔ اس کی شعوری بیداری اس درجہ تک پہنچ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page