Al-Risala · February 2016 · page 27

حمد کلچر

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۷

جائے کہ ہر چیز سے اس کو حمدِ خداوندی کا رزق ملنے لگے۔ یہ حالت ایک اعتبار سے دنیا میں اللہ رب العالمین کا اعتراف ہے۔ یہ اس فطری تقاضے کو پورا کرنا ہے جو تخلیق کے اعتبار سے انسان کے اندر ہونا چاہیے۔ یہی انسان وہ ہے جس نے دنیا میں سچا انسان بن کر زندگی گزاری۔

دنیا میں اس طرح زندگی گزارنے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہی سچا انسان وہ انسان ہے جس کو آخرت کی جنت میں وہ درجہ ملے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ بیان کیا گیا ہے : فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ (القمر : 55) یعنی وہ بیٹھے ہوں گے سچی بیٹھک میں ، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ دنیا میں جو لوگ سچائی کی زندگی گزاریں ، ان کو اس کا یہ انعام ملے گا کہ وہ آخرت میں سچائی کی سیٹ (seat of truth) پر بیٹھنے کا اعزاز حاصل کریں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے زندگی کا سب سے اعلی درجہ یہ ہے کہ وہ معرفتِ خداوندی میں زندگی گزارے۔ وہ اپنی زندگی کے لمحات اس طرح گزارے کہ وہ مسلسل طور پر اللہ کی نشانیوں کو دریافت کر رہا ہو۔ آلاءُ اللہ (wonders of God) بلاشبہ کائنات کی سب سے بڑی چیزیں ہیں۔ سچا انسان وہ ہے جو دنیا کی زندگی میں آلاء اللہ میں جیے۔ اور آخرت میں وہ زیادہ اعلیٰ صورت میں آلاء اللہ اور حمد الہی میں جینے کا مرتبہ پائے۔ قرآن کی ایک آیت یہ ہے : أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد : 28) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ لذیذ لمحہ (joyous moment) وہ ہے، جب کہ وہ اپنے رب کی قربت حاصل کرے، جب کہ وہ کائنات میں تخلیق کی معنویت کو دریافت کرے، جب کہ اس کا اعلیٰ تصور اس کو فرشتوں کا ہم نشین بنا دے، جب کہ وہ اعلیٰ معرفت کا شعوری تجربہ حاصل کرے، جب کہ وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت کی معرفت حاصل کرلے۔

یہی انسان کی حقیقی زندگی ہے۔ یہ زندگی ایک سچے انسان کو دنیا میں ابتدائی طور پر حاصل ہوتی ہے، اور آخرت کی جنت میں یہی زندگی اس کو اپنی اعلیٰ صورت میں حاصل ہوگی۔ گویا کہ سچا انسان وہ ہے جو اسی دنیا میں اللہ رب العالمین کے پڑوس میں جینے لگے، یہی وہ زندگی ہے، جو جنت میں اس کو زیادہ اعلیٰ درجے میں حاصل ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page