Al-Risala · February 2016 · page 29

حمد کلچر

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۹

جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دینوی سطح پر بھی: He was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels. پیغمبر اسلام کی اس عظیم کامیابی کا راز کیا تھا۔ اس کا راز ایک لفظ میں امن تھا۔ یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ پیغمبر اسلام تاریخ کے سب سے بڑے پیسفسٹ (pacifist) تھے۔ انہوں نے پُر امن طریقہ(peaceful means) کو ایک ناقابل تسخیر طاقت کے طور پر استعمال کیا۔ اس سلسلے میں قرآن میں آپ کو یہ اصولی ہدایت دی گئی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: الصُّلْح خير (النساء: 128) یعنی نزاعی معاملات میں پر امن تصفیے کا طریقہ زیادہ نتیجہ خیز طریقہ ہے: The peaceful method is a far more effective method. اسی طرح خود پیغمبر اسلام نے فرمایا: اِنَّ الله يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2593) یعنی خدا نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا: God grants to peace what He dose not grant to violence. پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے امن کو ایک مکمل آئیڈیالوجی کے طور پر دریافت کیا۔ آپ نے امن کو ایک ایسے طریقہ کار کے طور پر دریافت کیا جو ہر صورت حال کے لیے مؤثر ترین تدبیر کی حیثیت رکھتا تھا۔

ایک مفکر نے لکھا ہے کہ تاریخ کے تمام انقلابات صرف حکمرانوں کی تبدیلی (coup) تھے، وہ حقیقی معنوں میں انقلاب نہ تھے۔ یہ بات اگر صحیح ہو تو پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ کا نام اس معاملے میں ایک استثناء مانا جائے گا۔ کیوں کہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے ذریعے وہ تمام انفرادی، سماجی اور سیاسی تبدیلیاں وقوع میں آئیں، جن کے مجموعے کو انقلاب (revolution) کہا جاتا ہے۔ راقم الحروف کا احساس اپنے مطالعے کی بنیاد پر یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کا انسانی تاریخ میں جو کنٹری بیوشن (contribution) ہے، اُس کے لحاظ سے اُن کا سب سے زیادہ موزوں نام یہی ہو سکتا ہے کہ اُن کو امن کا پیغمبر (Prophet of Peace) کہا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page