Al-Risala · February 2016 · page 30

حمد کلچر

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۰

تاریخ ایک ایسا ڈسپلن ہے جس میں یہ امکان رہتا ہے کہ مطالعہ کرنے والا ایک سے زیادہ رایوں تک پہنچ جائے ۔ تاہم مصنف کا یہ خیال ہے کہ ایسا زیادہ تر محدود مطالعے کی بنا ہوتا ہے۔ اگر مطالعہ زیادہ وسیع اور جامع ہو تو تعدد آراء کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔

ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوگی۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں کچھ دفاعی لڑائیاں پیش آئیں۔ ان میں سے ایک دفاعی لڑائی وہ تھی جس کو جنگِ بدر کہا جاتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ جس وقت جنگ کا واقعہ ہوا، پیغمبرِ اسلام میدانِ جنگ سے باہر ایک عریش میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اپنے ہاتھ یا لکڑی سے آپ ریت پر کچھ لکیریں کھینچتے ہوئے نظر آئے۔ اس واقعے کو لے کر ایک مستشرق نے بطور خود اس کو جنگ سے منسوب کیا، اور لکھا کہ قائدِ اسلام اُس وقت اپنی اگلی جنگ کے نقشہ کا منصوبہ بنا رہے تھے: The leader of Islam was making his next war plan. مستشرق نے یہ بات کسی حوالے کے بغیر صرف اپنے قیاس کی بنیاد پر لکھ دی ۔ حالاں کہ دوسری روایات میں دیکھا جائے تو خود روایت کی بنیاد پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام اُس وقت کیا کر رہے تھے ۔ وہ دراصل یہ نقشہ بنا رہے تھے کہ آئندہ کس طرح امن قائم کیا جائے ، چناں چہ دوسری روایت میں بتایا گیا ہے کہ جس وقت بدر کی یہ دفاعی جنگ ہو رہی تھی ، عین اُسی وقت خدا کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ خدا نے آپ کو امن کا پیغام بھیجا ہے۔ یہ سُن کر پیغمبرِ اسلام نے فرمایا : " ھو السلام ومنه السلام وإليه السلام “ ( البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 267) یعنی خدا سلامتی ہے، اور اُسی سے سلامتی ہے، اور اسی کی طرف سلامتی ہے۔ اس دوسری روایت کے مطابق درست طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگِ بدر کے موقع پر پیغمبرِ اسلام اپنا اگلا منصوبہ پر امن بنا رہے تھے: The leader of Islam was making his next peace plan. پیغمبرِ اسلام کو قرآن میں پیغمبرِ رحمت کہا گیا ہے: وما ارسلنک الا رحمة للعالمين (الانبیاء: 107) یعنی پرافٹ آف مرسی۔ پرافٹ آف مرسی ہی کا دوسرانام پرافٹ آف پیس ہے۔ دونوں ایک ہی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے دو مختلف انداز کی حیثیت رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page