Al-Risala · February 2016 · page 31

حمد کلچر

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۱

پیغمبر اسلام کار مشن کوئی پولیٹیکل مشن نہیں تھا۔ آپ کے مشن کو دوسرے الفاظ میں اسپرچول مشن کہا جا سکتا ہے۔ قرآن میں اس کو تزکیہ نفس(Purification of the Soul) البقرہ: 129، بتایا گیا ہے، یعنی انسان کو کامل انسان بنانا۔ دوسری جگہ قرآن میں اس کے لیے النفس المطمئنة (complex-free soul)الفجر: 27، کے الفاظ آئے ہیں۔

اس قسم کا مقصد صرف نصیحت اور تذکیر (persuasion)کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ مقصد ذہن کی تشکیل نو (re-engineering of the mind) کا طالب ہے۔ یہ مقصد صرف انسان کی تفکیری قوت کو بیدار کر کے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے حصول کا ذریعہ سیاسی انقلاب نہیں ہے، بلکہ ذہنی انقلاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات تمام تر امن کے تصور پر مبنی ہیں۔ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی کتاب قرآن میں کل تقریباً 6500 آیتیں ہیں۔ ان آیتوں میں بمشکل چالیس آیتیں ہیں جن میں قتال یا جنگ کا ذکر ہے۔ یعنی کل آیتوں کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ۔ قرآن کی ننانوے فیصد سے زیادہ آیتیں وہ ہیں جن میں انسان کی قوتِ فکر کو بیدار کیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن گویا آرٹ آف تھنکنگ کے موضوع پر ایک کتاب ہے، وہ کسی بھی درجے میں آرٹ آف فائٹنگ کی کتاب نہیں۔

پیغمبر اسلام کی تعلیمات اور آپ کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے نہ صرف نظریہ امن پیش کیا بلکہ آپ نے نہایت کامیابی کے ساتھ پرامن زندگی کے لیے ایک مکمل طریق کا وضع کیا:

He was able to develop a complete methodology of peaceful activism. پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے نہ صرف امن کی ایک آئیڈیالوجی پیش کی، بلکہ امن کو عمل میں لانے کے لیے وہ ایک مکمل میتھاڈولوجی آف پیس ڈیویلپ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ گویا کہ آپ نظریہ امن کے آئیڈیالاگ بھی تھے، اور نظریہ امن کو عملی انقلاب کی صورت دینے والے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page