Al-Risala · February 2016 · page 32

خاموش تبلیغ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۲

خاموش تبلیغ

پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ 610 عیسوی میں جب آپ نے مشن شروع کیا تو ابتدائی کئی سال تک آپ خاموشی کے ساتھ انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے لوگوں تک اپنی بات پہنچاتے۔ رہے۔ اُس وقت کے مکہ میں نیز پورے ملک میں بتوں کو پوجا جاتا تھا۔ بت پرستی کا کلچر ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ پیدائش سے موت تک ہر معاملے میں مشرکانہ رسمیں داخل ہو چکی تھیں۔ ایسی حالت میں دینِ شرک کے بجائے دینِ توحید لے کر اُٹھنا، نزاع اور ٹکراؤ کو دعوت دینے کے ہم معنی تھا۔ ایسی حالت میں پیغمبر اسلام کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ ایک یہ کہ لوگوں کو کھلے طور پر توحید کی طرف بلائیں اور کھلے طور پر شرک کو غلط قرار دیں۔ آپ کے لیے دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ خاموشی کے ساتھ انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے اپنا مشن شروع کریں اور حالات کا اندازہ کرتے ہوئے تدرجی طور پر آگے بڑھیں۔ پہلے طریقے میں متشددانہ ٹکراؤ کا اندیشہ تھا، اس لیے آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کے بجائے آپ نے دوسرے طریقے کو اختیار کر لیا، جو واضح طور پر امن کا طریقہ تھا۔ جس میں یہ ممکن تھا کہ لوگوں سے ٹکراؤ کی صورت حال پیدا کیے بغیر اپنا کام جاری رکھا جا سکے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں یہ پیس فل ایکشنز کی پہلی مثال تھی۔ اس طرح آپ نے اپنی پوری تحریک امن کے اصول پر چلائی۔ اسی حقیقت کو ایک حدیث میں آپ نے اس طرح فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدو، وسلوا الله العافية (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3024) یعنی اگر تم کو کسی دشمن کا سامنا پیش آئے تو ایسا نہ کرو کہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہو کر اس سے لڑ جاؤ بلکہ امن کے اصولوں کو اختیار کرتے ہوئے دشمنی کے مسئلے کو حل کرو:

Solve the problem of enmity by following the peaceful method. اس طرح آپ پر امن انداز میں کام کرتے رہے یہاں تک کہ دھیرے دھیرے 83 آدمی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page