Al-Risala · February 2016 · page 33

خاموش تبلیغ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۳

آپ کے مشن میں شامل ہو گئے۔ اُس وقت آپ کے ایک سینئر ساتھی ابوبکر بن ابی قحافہ نے کہا کہ اب ہم کو اعلان کے ساتھ کھلے عام اپنا کام کرنا چاہیے۔ پیغمبر اسلام نے کہا کہ نہیں، اے ابوبکر، ابھی ہم تھوڑے ہیں (یا أبا بکر إنا قلیل) سیرت ابن کثیر جلد 1، صفحہ 441۔

لیکن ابو بکر صدیق نے اس کے باوجود ایسا کیا کہ وہ کعبہ گئے اور وہاں بلند آواز سے اعلان کر کے لوگوں کو بتایا کہ میں پوری طرح محمد کا ساتھی بن گیا ہوں۔ یہ سُن کر مخالفین کی ایک جماعت دوڑ کر آئی۔ وہ حضرت ابو بکر کو مارنے پیٹنے لگی۔ انھوں نے ان کو اتنا زیادہ مارا کہ وہ زخمی ہو کر گر پڑے۔ مارنے والوں نے ابو بکر کو اُس وقت چھوڑا جب کہ انھوں نے سمجھا کہ اب ان کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ عمر بن الخطاب آپ کے ساتھیوں میں نہایت طاقت ور شخص تھے۔ انھوں نے بھی پیغمبر اسلام سے کہا کہ ہم حق پر ہیں، پھر ہم کیوں خاموش رہیں۔ ہم اعلان کے ساتھ کھلے طور پر اپنا کام کریں گے ۔ یہ سن کر پیغمبر اسلام نے فرمایا: یا عمر إنا قلیل، قد رأیت ما لقينا (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 439)۔ یعنی اے عمر، ہم تھوڑے ہیں، ہمارے ساتھ جو پیش آیا وہ تم نے دیکھ لیا۔ دھیرے دھیرے پیغمبر اسلام کا مشن پھیلنے لگا۔ آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ پھر وہ وقت آیا جب کہ مدینہ سے 73 آدمی آ کر آپ سے ملے، اور بتایا کہ ہم آپ کے مشن میں آپ کے ساتھی ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب آپ مکہ والوں کی زیادتی کو اور زیادہ برداشت نہ کیجیے۔ ہم کو اجازت دیجیے کہ ہم مکہ والوں کے خلاف جہاد کریں۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا: اصبروا، فإني لم أومر بالقتال (المواهب اللدنية، 1/199) یعنی تم صبر کرو، کیوں کہ مجھے لڑائی کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔

پیغمبر اسلام کی یہ روش بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ عملی نتیجے کو سامنے رکھتے تھے۔ اُن کا یہ ماننا تھا کہ اقدام کو مثبت نتیجے کا حامل ہونا چاہیے، ایسا اقدام جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counterproductive) ثابت ہو، وہ کوئی اقدام نہیں۔ آپ نتیجہ خیز اقدام (result-oriented action) کے حامی تھے۔ پیغمبر اسلام کی لائف بتاتی ہے کہ ان کی اسکیم میں اُس قسم کی چیز کے لیے کوئی جگہ نہ تھی جس

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page