رُقُوم 2016ء
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۴
یے گو سرکشش کو موجودہ زمانے میں خود کش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے۔ خودکش بمباری کیا ہے، وہ دراصل مایوسی کا آخری درجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے مخالف پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا، اس لیے وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ فریقِ ثانی کو محدود نقصان پہنچانے کی خاطر خود اپنے آپ کو ہلاک کرے، اور پھر اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کرلے کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ میں شہید ہو جاؤں۔
دشمن کے مقابلے میں خود کش بمباری دراصل یہ ہے کہ آدمی کے سامنے میں فل ایکشن کا انتخاب کھلا ہوا ہو مگر نفرت اور انتقام کے جذبات میں مبتلا ہو کر وہ اس کو دیکھنے کے لیے اندھا ہو جائے اور اندھے پن میں وہ خود اپنے کو ہلاک کر ڈالے۔ کوئی بھی صورتِ حال جہاں کوئی شخص خود کش بمباری کا چوائس لیتا ہے وہاں یقینی طور پر اس کے لیے پرامن طریق کار کا راستہ کھلا ہوتا ہے۔ مگر وہ اس کو دیکھ نہیں پاتا۔
اصل یہ ہے کہ پرامن طریق کار کا انتخاب لینے کے لیے پہلی ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی کا ذہن نفرت اور انتقام کے جذبات سے خالی ہو۔ وہ غیر متاثر انداز میں واقعات کا تجزیہ کرے۔ پیغمبر اسلام کے الفاظ میں: وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسا کہ وہ ہیں (أرنا الأشياء كما هي) تفسیر الرازی، 1/119۔ پرامن عمل ایک مثبت عمل ہے اور مثبت عمل کی اہمیت کو ایک مثبت ذہن ہی سمجھ سکتا ہے، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ ناگپور اور کامٹی کے ارسالہ مشن کے افراد کی ماہانہ میٹنگ ہر مہینہ کے پہلے اتوار کو ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔ پر ضرور جمع کرائیں۔ زمانہ کے ارادوں پر ہمیشہ نہمیت کا غلبہ رہتا ہے۔ رابطہ قائم فرمائیں:
Mukhtar Ansari-09371745384 Khalilur Rehaman-9370050442 Irfan Rasheedi-9604367878
رُقُوم 2016ء
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues