سیاسی غلو
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۵
سیاسی غلو
قرآن میں ایک نصیحت ان الفاظ میں آئی ہے: لا تغلو ا فی دینکم (النساء: 171) یعنی تم لوگ اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ غلو مذہبی گروہوں کی ہمیشہ خاص گمراہی رہی ہے۔ چناں چہ آپ نے فرمایا: اياكم والغلو في الدين فانما ھلک من كان قبلكم بالغلو في الدين (مسند احمد، حدیث نمبر 1851) یعنی تم غلو سے بہت زیادہ بچوکیوں کہ پچھلی امتیں اسی لئے ہلاک ہوئیں کہ انھوں نے دین میں غلو کیا۔ غلو کے معنی انتہا پسندی (extremism) کے ہیں۔ غلو دراصل زوال کی علامت ہے۔ کوئی مذہبی گروہ جب زوال کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اندر غلو پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً مسیحی گروہ کے بعد کی نسلوں میں ابنیت مسیح کا عقیدہ، وغیرہ۔ جیسا کہ معلوم ہے، حضرت مسیح کی پیدائش معجزاتی انداز میں ہوئی تھی۔ بعد کے مسیحیوں نے اس میں غلو کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ حضرت مسیح خدا کے بیٹے تھے۔
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ میرے امت میں بھی وہ ساری خرابیاں پیدا ہوں گی جو پچھلی امتوں میں ہوئیں، بلکہ پچھلی امتوں سے بھی زیادہ۔ یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی امتوں میں 72 فرقے ہوئے تھے اور مسلمانوں میں 73 فرقے ہو جائیں گے۔
اس قسم کے بہت سے اعتقادی غلو، جلی یا خفی انداز میں مسلمانوں کے اندر پیدا ہو گئے ہیں۔ مگر مسلمانوں میں غلو کی اور ایک قسم ہے جو غالباً کسی پچھلی امت میں پائی نہیں گئی۔ شاید اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ بنی اسرائیل 72 فرقوں میں بٹ گئے اور تم 73 فرقوں میں بٹ جاؤ گے ۔ غلو کی اس اضافی قسم کو سیاسی غلو (political extremism) کہا جا سکتا ہے۔
معلوم تاریخ کے مطابق، کسی پچھلی امت کو وہ سیاسی عظمت نہیں ملی جو مسلمانوں کو ظہور اسلام
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues