Al-Risala · February 2016 · page 36

سیاسی غلو

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۶

کے بعد ایک ہزار سال کے دوران حاصل ہوئی۔ سیاسی عظمت عقیدہ کا حصہ نہ تھی بلکہ وہ تاریخ کا حصہ تھی۔ مگر مسلمانوں نے اس میں غلو کیا یہاں تک کہ عملی طور پر اس کو عقیدہ کا حصہ بنا دیا۔ اس طرح مسلمانوں میں سیاسی غلو پیدا ہو گیا۔ اسی غلو کا نتیجہ وہ متشددانہ جہاد ہے، جو آج مسلم دنیا میں پایا جاتا ہے۔ سیاسی عظمت کے دور میں مسلمانوں کے اندر اس معاملہ میں غلو آمیز افکار پیدا ہوئے ۔ مثلاً یہ کہ مسلمان خدا کی زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں اور ان کو یہ حق ہے کہ وہ خدا کی نیابت میں تمام قوموں کے او پر حکومت کریں۔ دین ایک مکمل اسٹیٹ کے ہم معنی ہے، اور دین اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اسٹیٹ کی صورت میں قائم نہ ہو جائے ۔ مسلمان افضل گروہ ہے اور دوسری قو میں ان کے مقابلہ میں غیر افضل گروہ۔ اس لئے مسلمان کبھی اس کو برداشت نہیں کر سکتے کہ غیر افضل گروہ ان کے او پر غالب ہو جائے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری صرف نماز روزہ کی ادائیگی سے پوری نہیں ہو سکتی ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ مسلمان خدا کی حاکمیت کا جھنڈا ساری زمین پر گاڑ دیں۔ اس قسم کے عقیدہ کا کوئی تعلق خدا کے اتارے ہوئے دین سے نہیں۔ یہ تمام تر سیاسی غلو ہے مگر موجودہ دور کے مسلمان پوری طرح اس سیاسی غلو میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ تقریباً سارے مسلمان اس غلو آمیز سوچ کا شکار ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی شعوری طور پر اس میں مبتلا ہے اور کوئی غیر شعوری طور پر اس کا حصہ بنا ہوا ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے پچھلی امتوں کو ان کے پیغمبر کے بعد سیاسی عظمت نہیں ملی اس لئے ان کے یہاں سیاسی غلو کا ظاہرہ وجود میں نہیں آیا۔ ان کے یہاں اعتقادی غلو پیدا ہوا کیوں کہ ان کے حالات کے اعتبار سے اسی قسم کا غلوان کے درمیان پیدا ہونا ممکن تھا۔

مسلمانوں کا معاملہ استثنائی طور پر مختلف تھا۔ ان کے پاس مذہبی عقائد بھی تھے اور اسی کے ساتھ تاریخی معنوں میں سیاسی عظمت بھی۔ چناں چہ حدیث کے مطابق، ان کے یہاں اعتقادی غلو کے اعتبار سے 72 فرقے بن گئے ۔ اسی کے ساتھ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق ، ان کے یہاں ایک 73 واں فرقہ بھی پیدا ہوا۔ یہ نیا فرقہ سیاسی غلو کرنے والوں کا فرقہ تھا۔ اعتقادی غلو کی برائی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page