سیاسی غلو
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۷
مسلمانوں میں تقریباً اتنی ہی ہے جتنی کہ دوسری امتوں میں پائی جاتی ہے مگر اسی کے ساتھ سیاسی غلو نے ان کے معاملہ کو بہت زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔
قرآن وحدیث کے مطابق، مسلم امت کا سب سے بڑا فریضہ دعوت ہے۔ یعنی غیر مسلم قوموں میں پُرامن طور پر خدا کا پیغام پہنچانا۔ اسی کو قرآن وحدیث میں شہادت علی الناس کہا گیا ہے۔ مگر موجودہ مسلمان اپنے سیاسی غلو کی بنا پر دعوت الی اللہ کے کام سے تقریباً مکمل طور پر دور ہو گئے ہیں۔ ان کی اس دوری کی سب سے زیادہ خطرناک شکل یہ ہے کہ انھوں نے دوسرے دوسرے کاموں پر دعوت کا لیبل لگا دیا ہے۔ مثلاً مناظرہ (debate) کو دعوت کہنا، سیاسی نظام کے لیے ہنگامہ آرائی کو دعوت کہنا، اصلاح المسلمین کے کام کو دعوت کہنا، کمیونٹی ورک کو دعوت کہنا، وغیرہ۔ آج سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر دعوت کا شعور پیدا کیا جائے۔ ان کے تعلیمی نظام کو دعوت کے اصول پر قائم کیا جائے۔ ان کو داعی گروہ کی حیثیت سے اٹھایا جائے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انھیں غیر دعوتی سرگرمیوں سے روکا جائے، کیوں کہ اس کے بغیر موثر انداز میں دعوت کا کام نہیں ہو سکتا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں چھپا ہوا ہے (المائدۃ: 67)۔ یعنی مسلمان اگر دعوت الی اللہ کا کام کریں تو اللہ ان کی جان و مال کا محافظ بن جائے گا۔ گویا دینی پیغام کا کام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور یہ اللہ کا ذمہ ہے کہ وہ ان کے مادی مفادات کی حفاظت کرے گا۔
مشہور حدیث میں آیا ہے: إنما الأعمال بالنيات (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1)۔ یعنی عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ اس حدیث میں نیت سے مراد ہی چیز ہے جس کو عام طور پر روح یا اسپرٹ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں اگرچہ بہت سے اعمال ہیں۔ جن کی ایک ظاہری صورت ہوتی ہے مگر اسلام میں اصل اہمیت کی چیز عمل کی روح یا اسپرٹ ہے نہ کہ محض اس کا ظاہری فارم۔ دوسری طرف حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے زمانے کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues