Al-Risala · February 2016 · page 38

سیاسی غلو

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۸

مسلمانوں کے بارے میں فرمایا: لا يبقى من الإسلام إلا إسمه (شعب الإيمان للبيهقي، حدیث نمبر 1763)۔ یعنی اسلام کا صرف نام باقی رہے گا۔ بعد کی مسلم نسلوں میں ایسا ہوگا کہ داخلی روح یا اسپرٹ تو ان میں ختم ہو جائے گی، البتہ اسلامی اعمال کی ظاہری صورت ان کے یہاں باقی رہے گی۔ لوگ اسلام کی اصل حقیقت سے بے بہرہ ہوں گے۔ وہ صرف ظاہری اسلام کو جانیں گے اور اس کا اہتمام کریں گے۔

اس فرق سے غلو کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جب کہ اس کی اسپرٹ زندہ تھی تو ساری توجہ روح یا اسپرٹ پر دی جاتی تھی۔ بعد کی نسلوں میں جب زوال آیا تو ظاہری چیزوں کو اہمیت دی جانے لگی۔ یہی ہر معاملہ میں ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر بزنس کلچر میں ایک لفظ بہت بولا جاتا ہے وہ ہے کسٹمر فرینڈلی ہیوییر (customer-friendly behaviour)۔ چناں چہ بزنس میں اپنے کسٹمر کے ساتھ بہت زیادہ دوستانہ آداب کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں گھر کے ادارہ کو دیکھیے ۔ کسی گھر میں آپ ماں باپ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنیں گے کہ ہمارا رویہ اپنی اولاد کے ساتھ سن فرینڈلی (son-friendly) ہوتا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ ماں باپ کے اندر اپنی اولاد کے لیے محبت کی روح اپنے آپ موجود ہوتی ہے، اس لیے انھیں اس کی ظاہری نمائش کی ضرورت نہیں۔

بزنس میں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ بزنس مین کے دل میں اپنے کسٹمر کے لئے کوئی قلبی شفقت اور محبت نہیں ہوتی۔ اس لئے وہ ظاہری آداب کا خوب اہتمام کرتا ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جہاں داخلی روح زندہ ہو وہاں ظواہر کا زیادہ اہتمام دکھائی نہیں دے گا لیکن جب داخلی روح موجود نہ رہے تو ظاہری چیزوں کا خوب اہتمام ہوگا۔

یہی وہ انسانی مزاج ہے جو مذہب میں وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کا نام غلو ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ غلو یا انتہا پسندی کا معاملہ ہمیشہ ظاہری چیزوں میں کیا جاتا ہے، نہ کہ داخلی حقیقت میں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ پیغمبرانہ پیشین گوئی مکمل

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page