Al-Risala · February 2016 · page 39

سیاسی غلو

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۹

طور پر پوری ہو چکی ہے۔ مسلمانوں میں جو غلو پیدا ہوا ہے، اس کی ایک قسم وہ ہے جس کو اعتقادی غلو کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً حضرت علی کی تفضیل مطلق کا عقیدہ، بزرگوں کے وسیلوں کا عقیدہ، قبروں کے تقدس کا عقیدہ، وہ عقیدہ جس کو الطاف حسین حالی نے ان الفاظ میں بیان کیا: نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں جہاد کے نام پر متشددانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ کچھ لوگ اس میں براہِ راست طور پر ملوث ہیں اور کچھ لوگ اس میں اس طرح شریک ہیں کہ وہ اپنی تقریر یا تحریر میں اس کو درست ثابت کرتے ہیں، کچھ اور لوگ ہیں جو اس پر خاموشی کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں مگر شرعی اصول کے مطابق وہ بھی اس میں شریک ہیں۔ غرض مسلمانوں کا ایک گروہ اس متشددانہ جہاد میں براہِ راست طور پر ملوث ہے اور دوسرا گروہ بالواسطہ طور پر۔ یہ سیاسی غلو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اس کمزوری نے ان سے وہ تمام انسانی اوصاف چھین لیے ہیں جو کسی قوم کو عزت اور عظمت کا مقام دیتے ہیں۔ مثلاً انسان کی خیر خواہی، آفاقی طرز فکر، مثبت انداز میں سوچنا، زمانہ کی تبدیلیوں کو جاننا، حقیقت پسندی کا مزاج، دوسروں کا اعتراف، داعیانہ اسپرٹ، امن کی اہمیت کو سمجھنا، موضوعی نقطۂ نظر (objective thinking)، وغیرہ۔

اس سیاسی غلو کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مسلمان ماضی کے جنون سے باہر نہ آسکے، وہ حال کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ ماضی میں جنگ فیصلہ کن ہوا کرتی تھی، موجودہ زمانہ میں پر امن وسائل زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔ مگر مسلمانوں کو اس کی خبر نہیں۔ ماضی میں زراعات پر مبنی اقتصادیات کا دور تھا۔ اب انڈسٹری پر مبنی اقتصادیات کا دور آچکا ہے مگر مسلمان اس سے بے خبر ہیں۔ ماضی میں جدید کمیونی کیشن کا کوئی وجود نہ تھا جب کہ آج جدید کمیونی کیشن سب سے بڑی طاقت بن چکی ہے۔ مگر مسلمان اس کو نہیں جانتے۔ ماضی میں تمام ذرائع حکومت کے پاس ہوتے تھے، موجودہ زمانہ اداروں (institutions) کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کوئی گروہ اداروں

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page