Al-Risala · February 2016 · page 44

امیج بلڈنگ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۴۴

سوال و جواب سوال مولانا صاحب، میں انٹرنیٹ پر آپ کے لکچرس سنتا ہوں اور الرسالہ پڑھتا ہوں۔ اس طرح مجھے دین کی کافی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ مولانا صاحب، میرا آپ سے سوال ہے کہ میں ایک معروف ہاسپٹل میں کمپیوٹر آپریٹر کی جاب کرتا ہوں۔ یہاں پر ہندو ساتھی پوجا کا پرشاد کھانے کے لیے دیتے ہیں۔ جب میں کھانے سے منع کرتا ہوں یا اسے نہیں لیتا تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ ایسے موقعے پر میں کیا کروں ، ان کو کیسے سمجھاؤں یا کنونس کروں ۔ (محمد اعجاز حسین، حیدر آباد) جواب آپ کا رویہ درست نہیں ۔ یہ کوئی اسلام نہیں ہے کہ آپ لوگوں کے پرشاد کو نہ لیں۔ پرشاد ایک رزق خداوندی ہے۔ دوسرا شخص اگر اس کو پرشاد کے نام پر دیتا ہے تو آپ اس کو رزق خداوندی کے نام پر قبول کریں ۔ کچھ لوگوں نے پرشاد کو سورہ البقرۃ کی آیت نمبر 173 کے تحت غلط بتایا ہے، مگر یہ قیاس مع الفارق ہے۔

صحیح یہ ہے کہ پرشاد کے معاملے کو سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت کے تحت نہ لیا جائے، بلکہ پرشاد کو تالیف قلب کی آیت (التوبہ : 60) کے تحت لیا جائے۔ دعوت امت مسلمہ کا اہم ترین فریضہ ہے۔ اور دعوت کے لیے تالیف قلب ضروری ہے۔ تالیف قلب کے بغیر دعوت کا کام درست طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔

تالیف قلب دراصل مدعو کے حق میں خیر خواہی کا ایک ظاہرہ (phenomenon) ہے۔ داعی اپنے مدعو کا ناصح (الاعراف: 68) ہوتا ہے، یعنی خیر خواہ (well-wisher)۔ خیر خواہی کے جذبے کی بنا پر داعی چاہتا ہے کہ وہ ایسا طریقہ اختیار کرے کہ داعی مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوں۔ تا کہ مدعو داعی کی بات کو سنجیدگی کے ساتھ لے، وہ اس کو نظر انداز نہ کرے۔ داعی کوہر ایسا کام کرنا چاہیے جس سے داعی اور مدعو کے درمیان ناصحانہ تعلق قائم ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page