امیج بلڈنگ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۴۵
سوال
سائنٹفک اسلوب کیا ہے، اس کے لوازمات و متعلقات کیا ہیں، وضاحت کے ساتھ تشریح فرمائیں۔ (فرید احمد، مظفر پور)
جواب
سائنٹفک میتھڈ کے ٹرم کا استعمال علمی دنیا میں سترھویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ ٹرم فزیکل سائنس میں استعمال ہوتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ فزیکل دنیا کا مطالعہ ریاضیاتی منطق (mathematical logic) کی روشنی میں کیا جائے۔ مثلاً سورج کی روشنی کس رفتار (speed) سے سفر کرتی ہے، اس کو مخصوص آلات کی مدد سے دریافت کرنا، وغیرہ۔ بعد کو سائنٹفک میتھڈ کا ٹرم، انسانیات کے شعبوں میں بھی استعمال ہونے لگا۔ میں ذاتی طور پر سائنٹفک میتھڈ کا ٹرم اسی معنی میں استعمال کرتا ہوں۔ میرا موضوع انسانیات ہے۔ میرے نزدیک انسانیات کے شعبوں کا مطالعہ وہی صحیح ہے جس میں مطالعے کے لیے سائنٹفک میتھڈ کو استعمال کیا گیا ہو۔ سائنٹفک میتھڈ دوسرے لفظوں میں وہی ہے جس کو موضوعی اسلوب (objective method) کہا جاتا ہے۔ یہ اسلوب ایک مسنون اسلوب ہے۔ حدیث میں اس کے لیے جو الفاظ آئے ہیں، وہ یہ ہیں: اللهم ارنا الاشياء كماهى (تفسیر الرازی، 1/199)۔ یعنی اے اللہ، ہم کو یہ توفیق دے کہ ہم چیزوں کو مطابق حقیقت (as it is) دیکھ سکیں۔
مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں مسلمان عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ تمام قومیں ہماری دشمن ہو گئی ہیں، وہ ہمارے خلاف سازش کرتی ہیں۔ یہ بلا شبہ غیر سائنٹفک اسلوب ہے۔ اس لیے کہ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے: ﴿وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا﴾ (آل عمران : 120)۔ اس آیت کے مطابق، اصل مسئلہ یہ ہے کہ سازش کے مقابلے میں مسلمانوں کا عمل یہ ہونا چاہیے کہ وہ درست منصوبہ بندی کے ذریعے سازش کو اپنے لیے غیر موثر (harmless) بنا دیں، نہ کہ سازش کے نام پر احتجاج (protest) کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues