Al-Risala · April 2017 · page 20

وأحياناً على بكر أخينـا

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۲۰

بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی پیٹرن پر لکھی گئیں، خواہ وہ منظوم کتابیں ہوں یا منثور کتابیں ۔ بعد کے مسلمان پیدا ہوتے ہی اسی قسم کی کتابیں پڑھنے لگے۔ اس طرح وہ دوبارہ بذریعہ لٹریچر اسی قسم کی کنڈیشننگ میں مبتلا ہو گئے جس کو تاریخی کنڈیشننگ کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو نفرت اور تشدد کی سوچ ہے، وہ اسی تاریخی کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے۔

ڈی کنڈیشننگ کیا ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کا عمل آدمی خود اپنے آپ پر کرتا ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کو روایتی اصطلاح میں محاسبہ نفس کہا جا سکتا ہے۔ اس محاسبہ خویش (self-deconditioning) کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنا بے لاگ مطالعہ کرے، اور اپنے آپ کو ان اثرات سے پاک کرے جو تاریخی طور پر اس کی سوچ کا حصہ بن گئے ہیں۔ مثلاً مذکورہ معاملہ میں آدمی یہ سوچے کہ قتال کی نوعیت اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں کیا ہے۔ پھر وہ پائے گا کہ قتال کوئی ابدی عمل نہیں۔ اس کا ایک اختتام (end) ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (الانفال: 39) اور جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا (محمد: 4)۔

قرآن اور حدیث میں اس طرح کے متعدد حوالے موجود ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ قتال حسن لذاتہ نہیں ہے، بلکہ حسن لغیر ہ ہے۔ یعنی اسلام میں قتال برائے قتال (qital for the sake of qital) نہیں ہے، بلکہ قتال کسی متعین سبب کے لیے ہے۔ جب یہ سبب ختم ہو جائے تو قتال بھی ختم ہو جائے گا۔ اس طرح سوچنے کے عمل کو اپنا محاسبہ کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو مسلمان یہ کر رہے ہیں کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا دشمن قرار دے کر ان کے خلاف متشددانہ کارروائی یا خود کش بمباری (suicide bombing) کر رہے ہیں، وہ اگر اس طرح غور کریں تو یقیناً ان کا موجودہ سوچنے کا طریقہ بدل جائے گا۔ اسی کو ڈی کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ اگر موجودہ زمانے کے مسلمان اس طرح بے لاگ انداز میں غور کریں تو یقیناً وہ ایک اور

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page