وأحياناً على بكر أخينـا
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۲۱
حدیث تک پہنچیں گے جو براہ راست طور پر اسی معاملے سے متعلق ہے ۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک وقت آنے والا ہے ، جب کہ ساری دنیا موید دین بن جائے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إن الله عز وجل ليؤيد الإسلام برجال ما هم من أهله (المعجم الكبير للطبراني، حدیث نمبر 14640)۔ مسند احمد میں یہ روایت اس طرح آتی ہے: إن الله سيؤيد هذا الدين بأقوام لا خلاق لهم (حدیث نمبر 20454)۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں ہے: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (حدیث نمبر 3062)۔
یہ حدیث مستقبل کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک پیشگی خبر ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ رسول اور اصحاب رسول کی کوششوں سے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد دنیا میں ایک تاریخی عمل (historical process) بڑے پیمانے پر جاری ہو گیا۔ اس تاریخی عمل میں نہ صرف مسلمان بلکہ دوسری سیکولر قومیں بالخصوص اہل مغرب بڑے پیمانے پر شریک ہوئیں۔ بیسویں صدی اس عمل کا نقطہ انتہا (culmination) تھا۔ اس عمل (process) نے انسانی تاریخ میں ایک نیا دور پیدا کر دیا۔ اسی نئے دور کو حدیث میں دین کے حق میں تائید کا دور کہا گیا ہے۔
* * * * * *
بارش کا آنا خدا کے منصوبے کا خاموش اعلان ہے۔ کسان اس خدائی اشارہ کو فوراً سمجھ لیتا ہے، اور اپنے آپ کو اس خدائی منصوبہ میں پوری طرح شامل کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ اس کو ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں واپس ملتا ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں، ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں، اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے حق میں نئے مواقع کھولے ہیں۔ یہ مواقع کہ اقتدار کا حریف بنے بغیر توحید اور آخرت کی دعوت کو عام کیا جائے۔ (اسلام پندرہویں صدی میں) * * * * * *
‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues