اصحاب رسول، اخوان رسول
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۱۹
دور یہ تھا کہ پیدا شدہ مواقع کو استعمال (avail) کر کے اسلام کا عالمی اظہار کرنا۔ پہلے دور کو حدیث میں تمثیل کی زبان میں اول المطر (first period of rain) کہا گیا ہے۔ اور دوسرے دور کو آخر المطر (second period of rain) کہا گیا ہے۔
صحابہ اور تابعین کے زمانے میں قدیم زمانے کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا گیا۔ مثلاً شرک کے غلبہ کو ختم کرنا، بادشاہی نظام کو ختم کرنا، تاریخ میں ایک نیا پر اسس جاری کرنا جس کے نتیجے میں وہ واقعہ پیش آئے جس کو قرآن میں تبیین حق (فصلت : 53) کہا گیا ہے۔ اسلامی مشن کے اس عالمی اظہار کو حدیث میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً یہ روایت : ليبلغن هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار، ولا يترك الله بيت مدر ولا وبرا إلا أدخله الله هذا الدين (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ امر (دین) ضرور پہنچے گا وہاں تک جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں۔ اللہ نہیں چھوڑے گا، مگر یہ کہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں اس دین کو داخل کردے۔
اظہار دین کا یہ عالمی مشن تاریخ کا سب سے بڑا عالمی مشن تھا۔ اس لیے اللہ نے اس مشن کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تاریخ میں ایسے حالات پیدا کیے جب کہ غیر اہل دین بھی اس کے موید بن جائیں۔ اللہ رب العالمین کے اس فیصلہ کو حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے : بے شک اللہ عزوجل اسلام کی تائید ضرور ان لوگوں کے ذریعہ کرے گا جو اہل اسلام نہ ہوں گے (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔
اکیسویں صدی عیسوی میں یہ تاریخی عمل (historical process) اپنے نکتہ انتہا (culmination) تک پہنچ چکا ہے۔ اب تمام مواقع آخری حد تک کھل چکے ہیں۔ اب اہل اسلام کا ایک ہی مشن ہے، اور وہ ہے اللہ کے پیغام (قرآن) کو پورے رویئے زمین پر بسنے والے انسانوں کی قابل فہم زبان میں پہنچانا۔ اگر اہل اسلام کسی اور غیر متعلق کام میں اپنے آپ کو مشغول کرتے ہیں تو یہ مشغولیت ان کے لیے اس رجز (المدثر : 5) میں ملوث ہونے کے ہم معنی ہوگی جس کو ترک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues