قابلِ عمل طریقِ کار
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۲۲
قابلِ عمل طریقِ کار
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی غیر معمولی کامیابی کا اعتراف عام طور پر مورخین نے کیا ہے۔ امریکی مصنف ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب دی ہنڈریڈ میں پیغمبر اسلام کو پوری انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ کامیاب انسان بتایا ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : He was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels. Michael H. Hart, The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History (New York: Simon &Schuster Ltd., 1993), 3. اسی طرح انڈین مصنف ایم این رائے (وفات: 1954) نے اپنی کتاب دی ہسٹاریکل رول آف اسلام میں پیغمبر اسلام کے انقلاب کے بارے میں یہ الفاظ لکھے : The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (M.N. Roy, The Historical Role of Islam [Bombay: Vora and Co. Publishers Ltd, 1938], 5.)
اس سلسلے میں اصل سوال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کو اپنے مشن میں یہ غیر معمولی کامیابی کس طرح حاصل ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس خصوصی طریق کار کے ذریعے، جس کو قرآن میں صراط مستقیم (الفتح: 2) کے نام سے بیان کیا ہے۔ مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طریقہ کی استثنائی صفت یہ تھی کہ وہ ایک کامل معنوں میں قابلِ عمل طریقہ (workable method) تھا۔ تاریخ میں بہت سی مثالیں ہیں، جب کہ لوگ ایک مقصد کے لیے اٹھے، انھوں نے غیر معمولی قربانیاں دیں، لیکن وہ اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوئے۔ پیغمبر اسلام کی استثنائی صفت ہے کہ آپ جس مقصد کے لیے اٹھے تھے، اس مقصد کو حاصل کرنے میں آپ پوری طرح کامیاب ہوگئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ کا طریق کار ایک ایسا طریق کار تھا، جو ورک کرنے والا (workable) طریق کار تھا۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا معاملہ یہ تھا کہ انھوں نے اپنے مقصد کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues