Al-Risala · April 2017 · page 23

قابلِ عمل طریقِ کار

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۲۳

حصول کے لیے ایک ایسا طریق کار اختیار کیا جو قانون فطرت کے مطابق، ورک کرنے والا (workable) ہی نہ تھا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کار اس لیے ورک کرنے والا طریق کار بن گیا کہ وہ مکمل طور پر حقیقت پسندی پر مبنی تھا۔ پیغمبر اسلام کے ذہن میں بلاشبہ اپنا ایک سوچا سمجھا آئیڈیل تھا، لیکن اپنی حقیقت پسندی کی بنا پر انھوں نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنی جدوجہد کے دوران اس طریقے کو اختیار کیا جو حالات کے لحاظ سے عملاً قابل عمل طریق کار تھا۔ آپ کی پالیسی کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:

Ideologically, he was perfectly an idealist, but practically, he always adopted practical wisdom. Theoretically, he was an idealist, but practically, he was a pragmatic. آؤٹ سورسنگ (outsourcing)

اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں مکہ میں توحید کا مشن شروع کیا۔ مکہ میں مقدس کعبہ تھا، جس کو اب سے تقریباً چار ہزار سال پہلے پیغمبر ابراہیم نے ایک خدا کی عبادت کے لیے تعمیر کیا تھا۔ لیکن بعد کے زمانے میں مکہ میں دھیرے دھیرے شرک کے اثرات پھیل گئے۔ یہاں تک کہ بعد کے زمانے میں مکہ کے سرداروں نے کعبہ میں بتوں کو رکھنا شروع کر دیا، جن کی تعداد بڑھتے بڑھتے تقریباً تین سو ساٹھ ہو گئی۔ پیغمبر اسلام کے لیے یہ منظر بے حد تکلیف دہ تھا۔ لیکن آپ نے اس معاملے میں مثبت (positive) طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے دیکھا کہ ان بتوں کی وجہ سے وہاں روزانہ ایک مجمع ہوتا ہے۔ سارے عرب سے ان بتوں کے پرستار کعبہ کے پاس اکٹھا ہوتے ہیں۔ آپ نے ان پرستاروں سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس موقعہ پر اس طریقے کو اختیار کیا، جس کو آج کل کی زبان میں آؤٹ سورسنگ کہا جاتا ہے۔ یہ مجمع تمام تر غیر خدا پرستوں کا مجمع ہوتا تھا۔ آپ نے ان لوگوں کو مدعو کا درجہ دیا۔ اور ان کو اپنا آئڈینز (audience) بنا لیا۔ آپ روزانہ وہاں جاتے اور ان کو قرآن پڑھ کر سناتے۔ چناں چہ سیرت کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page