Al-Risala · April 2017 · page 24

قابلِ عمل طریقِ کار

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۲۴

کتابوں میں آتا ہے: وعرض عليهم الإسلام، وتلا عليهم القرآن (سيرة ابن ہشام، (1/428)_ ری پلاننگ (re-planning)

قدیم مکہ میں آپ کی مخالفت بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کو یہ الٹی میٹم دے دیا کہ یا تو آپ مکہ کو چھوڑ دیں، یا ہم آپ کو قتل کر دیں گے۔ اس وقت آپ نے دوبارہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ آپ نے ری پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی آپ نے مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کو اپنے مشن کا مرکز بنا لیا۔ اور مکہ کے بجائے مدینہ سے اپنے مشن کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ نیا منصوبہ کامیاب رہا، اور بہت جلد اسلام کی تحریک ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔ پہلے اگر آپ کا مشن ایک مقامی مشن تھا، تو اب وہ دھیرے دھیرے ایک انٹرنیشنل مشن بن گیا۔ پیس ایٹ اینی کاسٹ (peace at any cost)

تا ہم آپ کی ہجرت کو قدیم مکہ کے سرداروں نے دل سے قبول نہیں کیا۔ انھوں نے آپ کے خلاف جنگی کارروائی شروع کردی۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول دعوت الی اللہ کے لیے قاتل ہے۔ دعوت کا کام ٹکراؤ کے ماحول میں انجام نہیں دیا جا سکتا۔ اس موقع پر آپ نے فیصلہ کیا کہ کوئی ایسی تدبیر کرنا چاہیے، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان امن کا ماحول قائم ہوجائے۔ اس مقصد کے لیے آپ نے فریق مخالف سے گفت و شنید (negotiation) شروع کر دیا۔ لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ فریق ثانی اس کے لیے راضی نہیں ہے کہ وہ دوطرفہ شرطوں پر امن کا معاہدہ کرے۔ آپ نے یہ طے کیا کہ فریق ثانی کی تمام شرطوں کو مان کر، ان سے یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر صلح کا معاہدہ کرلیا جائے۔ اس طرح ہجرت کے چھٹے سال دونوں فریقوں کے درمیان وہ معاہدۂ امن طے پایا، جس کو صلح حدیبیہ (Hudaybiyah Agreement) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کو اس وقت کے اکثر لوگوں نے ذلت آمیز معاہدہ (humiliating agreement) قرار دیا۔ لیکن قرآن نے کہا کہ یہ فتح مبین (clear

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page