Al-Risala · April 2017 · page 26

عہدِ اسلام

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۲۶

عہدِ اسلام

قرآن وحدیث میں اسلام کے مستقبل کے بارے میں ایسی پیشین گوئیاں (predictions) موجود ہیں، جو بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو زمانہ آنے والا ہے، وہ اسلام کا زمانہ ہوگا۔ مثلاً ایک روایت ہے۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ سے شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنائے ہوئے لیتے تھے۔ ہم نے کہا کہ کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد نہیں مانگتے، کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں کرتے۔ آپ نے فرمایا، تم سے پہلے جو لوگ تھے، ان کا یہ حال تھا کہ آدمی کو پکڑا جاتا، اس کے لیے زمین میں گڈھا کھودا جاتا، پھر اس کو اس میں ڈال دیا جاتا، پھر آرالايا جاتا تھا اور اس کے سر پر چلایا جاتا تھا، اور اس کو دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا، اور (کبھی ایسا ہوتا کہ کسی آدمی کے جسم پر) لوہے کی کنگھی کی جاتی، یہاں تک کہ وہ اس کے گوشت سے بڑھ کر اس کی ہڈی تک پہنچ جاتی تھی۔ مگر یہ چیز اس کو اس کے دین سے روکنے والی نہیں بنتی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا: واللہ لیتمن هذا الأمر، حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضر موت، لا يخاف إلا الله، والذئب على غنمه، ولكنكم تستعجلون۔ یعنی خدا کی قسم یہ امر تکمیل تک پہنچے گا، یہاں ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا، اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہیں ہوگا، اور بھیڑیے کا اپنی بکریوں پر، مگر تم لوگ جلدی کر رہے ہو۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6943)۔

یہ قول رسول ایک پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کی تاریخ میں جو اہل دین پر ظلم کیا جاتا تھا، وہ اسلام کے بعد کی تاریخ میں اللہ کی مدد سے ختم ہو جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قبل از اسلام کا دور، اگر مخالف اسلام دور تھا تو بعد از اسلام کا دور، موافق اسلام کا دور ہوگا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں یہ دور آیا۔ اب اس پیشین گوئی پر تقریبا ڈیڑھ ہزار سال گزر چکے ہیں۔ یقینی ہے کہ یہ دور تاریخ میں آچکا ہے۔ پھر کیا وجہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page