The America I have Seen
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۲۷
ہے کہ اہل اسلام اس دور کی آمد سے بے خبر ہیں۔
اس عظیم بے خبری کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب، حدیث کے مطابق یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے اکثر لوگوں سے ان کی عقلیں چھن جائیں گی ( تنزع عقول أكثر ذلك الزمان ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3959۔ اس بنا پر وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ وہ کسی واقعہ کا صحیح تجزیہ کر کے اس کی حقیقت کو دریافت کریں۔ عقل کیا ہے۔ عقل اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی غیر متعلق کو الگ کر کے متعلق کو جان سکے:
Wisdom is the ability to discover the relevant by sorting out the irrelevant. ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ مصر کے سید قطب مزید تعلیم کے لیے امریکا گئے۔ وہاں وہ تین سال رہے۔ انھوں نے امریکا کے بارے میں صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھی۔ کتاب کا عربی نام یہ ہے، امریکا التی رایت:
The America I have Seen
یہ کتاب امریکہ کی منفی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آدمی وہی رائے قائم کرے گا جو عام طور پر امریکا کے بارے میں عربوں کی رائے ہے۔ عرب عام طور پر امریکا کے بارے میں اپنی رائے، اس الفاظ میں بیان کرتے ہیں: امریکا عدو الاسلام رقم واحد ( امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے )۔ اس منفی رائے کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ امریکا کو ایک غیر متعلق پہلو سے دیکھتے ہیں۔ جو لوگ امریکا کو اسرائیل کے زاویہ سے دیکھتے ہیں، وہ امریکا کو اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ اور جو لوگ امریکا اس کو اس کے کلچر کے اعتبار سے دیکھتے ہیں، وہ لوگ امریکا کو اباحیت (permissiveness) کا ملک سمجھتے ہیں۔ مگر یہ دونوں پہلو امریکا کے غیر متعلق پہلو ہیں۔ اس کا متعلق پہلو یہ ہے کہ امریکا میں سائنسی تحقیق (scientific research) کا سب سے زیادہ کام ہوا ہے۔ غیر متعلق پہلو سے دیکھنے میں امریکا ایک برا ملک نظر آتا ہے، لیکن اگر متعلق پہلو سے دیکھا جائے تو امریکا انسانیت کا محسن ملک نظر آئے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues