Al-Risala · April 2017 · page 28

قتل کی سزا

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۲۸

قتل کی سزا

امام ابن تیمیہ الحرانی (728-661 ھ) شام میں پیدا ہوئے۔ یہ مسلمانوں میں عام طور پر اہم ترین عالم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کو شیخ الاسلام کا لقب دیا گیا ہے۔ ان کی کتابیں کتبِ مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہماری آفس میں موجود مشہور عربی ڈیجیٹل لائبریری المکتبة الشاملة میں ان کی 154 عربی کتابیں ہیں۔

ایک عرب عالم محمد حبش کا ایک مقالہ انٹرنیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس مقالہ کا ٹائٹل یہ ہے: ابن تیمیہ و 428 فتوی بعنوان: (یستتاب وإلا قتل)۔ انھوں نے ابن تیمیہ کی عربی کتابوں کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا، اور اس مقالے میں انھوں نے ذکر کیا ہے کہ ابن تیمیہ نے اپنے نقطہ نظر کے مطابق کن عمل کو مستوجب قتل جرائم قرار دیا ہے۔ یعنی کون سے ایسے جرائم ہیں جو ابن تیمیہ کے نزدیک مستوجب قتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ محمد حبش اپنے مقالہ میں ابن تیمیہ کے الفاظ اس طرح نقل کرتے ہیں: ’’یستتاب وإلا قتل‘‘، أو ’’ وإلا فإنه يقتل ‘‘ (یعنی ایسے شخص سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر اس نے توبہ نہیں کیا تو اس کو قتل کر دیا جائے گا)۔ ان کے مطابق، ابن تیمیہ کے مجموع فتاویٰ میں یہ جملہ دو سو مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ اور اگر دوسری کتابوں کو شامل کر لیا جائے تو ایسے جرائم کی تعداد 428 ہو جاتی ہے۔ انٹرنیٹ پر ملاحظہ ہو مذکورہ مضمون ابن تیمیہ و 428 فتوی بعنوان: (یستتاب وإلا قتل)۔

یہ کون سے جرائم ہیں۔ یہ سب کے سب اعتقادی جرائم (thought crime) ہیں۔ محمد حبش نے مثال کے طور پر ابن تیمیہ کے کچھ ایسے فتاویٰ نقل کیے ہیں: مثلاً جو شخص یہ نہ کہے کہ اللہ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر اس نے توبہ نہیں کی تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ جو شخص کسی سے کہے کہ میں نے تمھارے اوپر پر توکل کیا، یا مجھے تمھارے اوپر اعتماد ہے— تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر اس نے توبہ نہیں کی تو اس کو قتل کر دیا جائے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page