Al-Risala · April 2017 · page 30

قتل کی سزا

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۳۰

گی، اور اگر نہ کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ جو یہ کہے کہ قرآن مخلوق ہے تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر تو بہ نہ کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ جو یہ کہے کہ اللہ نے موسیٰ سے کلام نہیں کیا تو اس سے توبہ طلب کی جانی گی اور اگر تو بہ نہ کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ (تکبیر قرآن میں لکھا ہوا نہیں ہے، اور مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے ) تو جس شخص نے یہ خیال کیا کہ تکبیر (اللہ اکبر) قرآن سے ہے تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر تو بہ نہ کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ جس نے نماز کو کسی کام سے یا شکار کی وجہ سے یا استاد کی خدمت، وغیرہ کی وجہ سے موخر کیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو اس کو سزا دینا واجب ہے، بلکہ جمہور علماء کے نزدیک تو بہ کے بعد اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ جس شخص نے یہ کہا کہ مسافر پر رمضان کا روزہ رکھنا واجب ہے تو وہ دونوں گمراہ اور مسلمانوں کے اجماع کے مخالف ہیں، اس کے کہنے والے سے توبہ طلب کی جائے گی اور اگر نہ کرے تو قتل کر دیا جائے گا۔

ابن تیمیہ کے یہ فتاویٰ ان کی ذاتی رائے پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ یہی عام طور پر بعد کے زمانے کے علماء اور فقہاء کا مسلک ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہے کہ سات سو سال گزرنے کے بعد بھی کسی قابلِ ذکر عالم نے اس کے خلاف کوئی کتاب نہیں لکھی۔ بلکہ اس قسم کے دعویٰ کے باوجود ابن تیمیہ آج بھی اکابر علماء میں عظیم درجہ پائے ہوئے ہیں۔

ابن تیمیہ نے جن چیزوں پر قتل کا فتویٰ دیا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک ”جرم“ بھی قرآن و حدیث میں مذکور نہیں۔ پھر ابن تیمیہ اور دوسرے علماء نے کیوں ایسا کیا کہ جس جرم کے لیے قرآن و حدیث میں سزا مذکور نہیں، اس کے لیے انھوں نے شرعی اعتبار سے سزا مقر کی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان علماء نے سماجی جرم (social crime) اور اعتقادی جرم (thought crime) میں فرق نہیں کیا۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، سماجی جرم پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ لیکن اعتقادی جرم اسلام کے نزدیک کوئی قابلِ سزا جرم ہی نہیں۔

اعتقادی جرم اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ کی عطا کردہ آزادی کا غلط استعمال ہے۔ اس قسم

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page