Al-Risala · April 2017 · page 31

قتل کی سزا

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۳۱

کا غلط استعمال اگر وہ کسی کے خلاف جارج (harmful) نہ ہو تو وہ اس کے لیے قابلِ سزا فعل نہ ہوگا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَ مَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُر (18:29)۔ اصل یہ ہے کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں دعوت کا تصور حذف ہو گیا۔ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ جو شخص کوئی غلطی کرے، خواہ وہ غلطی قول کی ہو یا فعل کی ، اس کو سخت سزا دی جائے گی۔ مگر یہ تصور سر تا سر قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق، سماجی جرائم پر سزا ہے لیکن قولی انحراف پر نا صحانہ دعوت ہے، نہ کہ سزا۔

سخت سزا کا یہ تصور اسلام کے بعد کے زمانے میں پیدا ہوا، جب کہ مسلمانوں کی اپنی سلطنت (political empire) قائم ہو چکی تھی۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں اس طرح کی صورت حال میں پر امن دعوتی جواب کا تصور تھا۔ بعد کے زمانے میں یہ تصور بن گیا کہ اب ہم کو طاقت حاصل ہے، اس لیے ہم کو اقتدار کی سطح پر اس کا پر تشدد جواب دینا چاہیے۔ یہ تصور قرآن کے خلاف تھا۔ قرآن تمام تر پرامن دعوت کے تصور پر قائم ہے، نہ کہ پرتشدد سزا کے اصول پر۔ اس معاملے میں قرآن کی یہ آیت ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے: فَذَكَّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرُ ، لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِر (88:21-22)۔ پس تم یاد دہانی کرو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں۔ قرآن کی اس آیت میں مصیطہر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مصیطہر کا مطلب داروغہ ہے، یعنی جبری نفاذ کرنے والا۔ قرآن کی اس آیت میں مطلق طور پر یہ حکم دیا ہے کہ تمھاری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ تم پر امن انداز میں لوگوں کو نصیحت کرتے رہو۔ تمھاری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ تم اپنی بات کو لوگوں کے اوپر جبری طور پر نافذ کرو۔ یہ آیت ابدی طور پر اہل ایمان کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ اعتقاد کے معاملے میں ان کو ہر گز کسی شخص پر تشدد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ خیر خواہی کے جذبے کے تحت لوگوں کو نصیحت کریں۔ جو شخص نصیحت کو مان کر اپنی اصلاح کرے گا، وہ اللہ کے یہاں اس کا بدلہ پائے گا۔ اور جو شخص نصیحت کو نہ مانے اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page