ماکان و ما يكون
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۰
ماکان و ما يكون
ایک حدیث رسول سنن الترمذی اور دوسری کتب حدیث میں آئی ہے۔ احکام القرآن لابن العربی میں اس کو ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: أول ما خلق الله القلم، فقال له: اكتب، فكتب ما كان وما يكون إلى يوم الساعة، فهو عنده في الذكر فوق عرشه (احکام القرآن، بیروت، 2003، جلد 4، صفحہ 420) یعنی اللہ نے پہلی چیز جو پیدا کی، وہ قلم تھی۔ پھر اللہ نے اس سے کہا کہ لکھ۔ تو اس نے لکھا وہ سب کچھ جو ہوا، یا جو ہوگا قیامت تک۔ پس وہ اللہ کے پاس ذکر میں ہے، اللہ کے عرش کے اوپر۔
اس حدیث میں ”ماکان وما يكون‘‘ سے مراد کون سے واقعات ہیں۔ تاریخ کے تمام واقعات یا منتخب واقعات۔ تاہم اہل ایمان کے لیے اصل اہمیت ان واقعات کی ہے جو توحید کے مشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات کو جاننا اہل توحید کے لیے ضروری ہے۔ تا کہ ان کی رعایت کرتے ہوئے وہ اپنے دعوتی مشن کی صحیح منصوبہ بندی کر سکیں۔ جیسا کہ ایک حدیث رسول میں آیا ہے: وعلى العاقل ان يكون بصيرا بزمانه (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ دانش مند آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور ہیں۔ ایک وہ جب کہ دنیا دو قسم کے لوگوں میں بٹی ہوئی تھی ۔ مومن اور کافر یا بلیور (believer) اور نان بلیور (non-believer) مگر بعد کے زمانے میں تاریخ میں جو انقلاب آئے گا۔ اس کے بعد یہ تقسیم ختم ہو جائے گی۔ اب دنیا جن دو قسم کے لوگوں میں تقسیم ہوگی، وہ ہوں گے مومن (believer) اور موید (supporter)۔ بعد کے زمانے میں اس تبدیلی کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: إن الله عز و جل ليؤيد الإسلام بر جال ما هم من أهله (المجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اللہ عزوجل اسلام کی تائید ضرور ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اسلام کا حصہ نہ ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues