دور تائید
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۲
دور تائید
قرآن میں ایک حکم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں دیا گیا ہے : وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتَّى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وََّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهُ لِلَّهِ (39:8) ۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں قتال کا لفظ معروف جنگ کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ انتہائی جدوجہد (utmost struggle) کے معنی میں ہے ۔ چوں کہ آپ کی زندگی میں عملاً جو کچھ پیش آیا وہ یہی تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کوئی کامل جنگ (full-fledged war) نہیں کی۔ آپ کے مخالف گروپ نے کئی بار آپ پر حملہ کرکے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی۔ مگر آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ خصوصی تدبیر کے ذریعہ یا تو جنگ کو عملاً ہونے نہیں دیا، یا اس کو جنگ کے بجائے جھڑپ (skirmish) بنا دیا۔ اس معاملے میں آپ کی زندگی مذکورہ قرآنی آیت کی عملی تفسیر ہے۔
آپ کی تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ میں آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن آپ نے مکہ سے ہجرت کرکے قتل وقتال کو عملاً نا ممکن بنا دیا۔ غزوہ احزاب کے موقع پر آپ کے مخالفین نے بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیا۔ مگر آپ نے اپنے اور فریق مخالف کے درمیان خندق کی صورت میں ایک حاجز (buffer) قائم کر دیا۔ حدیبیہ کے موقع پر فریق ثانی نے جنگ کی صورت پیدا کردی، لیکن آپ نے یک طرفہ صلح کر کے جنگ کو ہونے سے روک دیا۔ فتح مکہ کے موقع پر جنگ یقینی تھی، لیکن آپ نے خصوصی تدبیر کے ذریعہ اس کو پرامن مارچ (peaceful march) میں بدل دیا، وغیرہ۔ دور تائید کا آغاز قدیم زمانے میں جنگ بہت عام تھی۔ قبائل کے درمیان جنگ ، بادشاہوں کے درمیان جنگ ، وغیرہ۔ لوگ مسائل کو حل کرنے کا ایک ہی طریقہ جانتے تھے۔ جنگ کا طریقہ۔ اللہ تعالیٰ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues