Al-Risala · January 2017 · page 23

دور تائید

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۳

نے اپنے پیغمبر کو اس معاملے میں ایک صراط مستقیم (الفتح : 2) کی طرف رہنمائی کی۔ یعنی جنگی ٹکراؤ کے بجائے پر امن تدبیر (peaceful management) کے ذریعے مسائل کو حل کرنا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے اس تدبیر کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کیا کہ تاریخ میں نیا دور آ گیا۔ یعنی ٹکراؤ کے بجائے تائید کا دور۔ اس مقصد کے لیے ساتویں صدی عیسوی میں ایک منصوبہ بند عمل کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ یہ عمل (پراسس) انیسویں صدی میں اپنی تکمیل (culmination) تک پہنچ گیا۔ اس تکمیلی مرحلہ کو ایک لفظ میں جدید تہذیب (modern civilization) کہا جا سکتا ہے۔ جدید تہذیب اسلام کے لیے ایک تائیدی تہذیب (supporting civilization) ہے۔

اس دور تائید کو قرآن میں ليُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (9:33) کے الفاظ میں بیان کیا گیا تھا۔ یعنی دین سے تعلق رکھنے والے تمام اسباب دین خداوندی کے موافق ہو جائیں۔ دین خداوندی اور دین انسانی میں ٹکراؤ کی صورت عملاً ختم ہو جائے۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک عظیم منصوبہ تھا۔ اللہ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ اہل ایمان کی جماعت کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس میں موید (supporter) بن گے۔ یہ پیشین گوئی زیادہ واضح الفاظ میں حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے :

1 - إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ 2 - إن الله عز وجل ليؤيد الإسلام برجال ما هم من أهله (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 56)۔

3 - إن الله سيؤيد هذا الدين بأقوام لا خلاق لهم (مسند احمد، حدیث نمبر 20454)۔ 4 - ليؤيدن الله هذا الدين بقوم لا خلاق لهم (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4517)۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مستقبل میں ضرور ایسا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہل دین میں سے نہ ہوں گے۔ وہ اس کام کو ڈیویلپمنٹ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page