Al-Risala · May 2017 · page 12

لمبی عمر

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۲

اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اصل مسئلہ لمبی عمر کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کو ایک نیا جسم حاصل ہو جائے، جو جسمانی زوال سے پاک ہو۔ موجودہ جسمانی وجود کے رہتے ہوئے، لمبی عمر کا کوئی فائدہ نہ موت سے پہلے کے عرصہ حیات میں ہے، اور نہ موت کے بعد کے عرصہ حیات میں۔

اس مسئلے کا حل وہ ہے جس کو قرآن میں خلقِ جدید (ابراہیم: 19، فاطر: 16) کہا گیا ہے۔ خلقِ جدید کا مطلب ہے نئی تخلیق (new creation)۔ یعنی زوال سے پاک ایک نئے جسمانی وجود کا حاصل ہونا، اور اس قسم کی نئی تخلیق خالق کے سوا کسی اور کے قدرت میں نہیں۔ جو لوگ لمبی عمر چاہتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ (51:50) کے طریقے پر عمل کریں۔ یعنی زیادہ سے زیادہ اللہ کو یاد کرنا، وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کو پکارنا، زیادہ سے زیادہ اللہ سے دعا کرنا تا کہ وہ ان کو مطلوب زندگی عطا کرے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کی زبان سے شکر کا ایک کلمہ ان الفاظ میں نکلے گا: الحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ یہاں حزن (suffering) کا لفظ بہت بامعنی ہے۔ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو دنیا کی زندگی کو انسان کے لیے بے لذت بنا دیتی ہیں۔ اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو جسمانی اعتبار سے یا خارجی اعتبار سے موجودہ دنیا میں انسان کے لیے پریشانی کا سبب بنتی ہے۔ انسان کی طلب کے اعتبار سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کو حزن سے خالی زندگی حاصل ہو جائے۔ حزن کے ساتھ کوئی بھی چیز انسان کو خوشی دینے والی نہیں۔

جنت کے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: من مات من أهل الجنة من صغير أو كبير يردون بني ثلاثين في الجنة لا يزيدون عليها أبدا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2562)۔ یعنی اہل جنت میں سے ہر شخص کی عمر تیس سال کر دی جائے گی۔ خواہ موت کے وقت وہ اس سے زیادہ کا ہو یا کم کا۔ ان کی عمر اس سے زیادہ کبھی نہیں ہوگی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page