Al-Risala · May 2017 · page 13

لمبی عمر

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۳

ہے کہ جنت میں انسان کو اس کا وہ مطلوب مل جائے گا، جو وہ چاہتا تھا، لیکن وہ اُس کو اس دنیا میں نہیں ملا۔ یعنی ہمیشہ کے لیے جوانی کی عمر۔ انسان صرف جوانی کی عمر میں اس قابل ہوتا ہے کہ وہ بھرپور زندگی گزار سکے۔ جوانی کی عمر ہر انسان کی سب سے زیادہ مطلوب عمر ہے۔ انسان کا یہ مطلوب موت سے پہلے کے عرصہ حیات میں اس کو نہیں ملتا، لیکن موت کے بعد کے عرصہ حیات میں اس کو یہ مطلوب اعلیٰ صورت میں حاصل ہو جائے گا۔

جنت کے بارے میں ایک لمبی حدیث آئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: (إذا صار أهل الجنة إلى الجنة ..... أتي بالموت حتى يجعل بين الجنة والنار، ثم يذبح، ثم ينادي مناد : يا أهل الجنة لا موت ..... فيزداد أهل الجنة فرحا إلى فرحهم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2850)۔ یعنی جب جنت والے جنت کی طرف چلے جائیں گے ..... تو موت کو جنت اور دوزخ کے درمیان لایا جائے گا پھر اسے ذبح کیا جائے گا پھر ایک پکارنے والا پکارے گا اے جنت والو اب موت نہیں ہے ..... اس سے اہل جنت کی خوشی میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ انسان پیدائشی طور پر ایک مطلوب دنیا کا تصور لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس کی ساری امنگیں، اور اس کی ساری دوڑ دھوپ موجودہ دنیا میں اس مطلوب کو حاصل کرنے میں لگی رہتی ہیں۔ وہ مختلف چیزوں کے بارے میں یہ رائے بناتا ہے کہ وہ مل جائے تو اس کی مطلوب دنیا اس کو حاصل ہو جائے گی۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ انسان نے پوری کوشش کی، اور اس کے بعد اس چیز کو پالیا جس کو وہ پانا چاہتا تھا، تاہم آخر میں اس نے دیکھا کہ بظاہر مطلوب کو پانے کے باوجود اس کو خوشی حاصل نہ ہوسکی۔ مثلاً اس نے مال حاصل کرنا چاہا، اور لمبی کوشش کے بعد اس نے مال حاصل کر لیا، لیکن مال اس کو اس کی مطلوب خوشی نہ دے سکا۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے سیاسی اقتدار کو اپنا نشانہ بنایا، اور آخر کار سیاسی اقتدار حاصل کر لیا، لیکن اب اس کو معلوم ہوا کہ سیاسی اقتدار اس کو وہ چیز نہیں دے رہا ہے جو اس کا اصل مطلوب تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی کامیابی صرف یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو اور پھر جنت کو پالے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز اس کو حقیقی خوشی دینے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page