ہار جیت کا دن
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۴
ہار جیت کا دن
قرآن کی سورہ نمبر 64 میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کا دن یوم التغابن ہوگا۔ یعنی ہار جیت (loss and gain) کا دن۔ ہار اور جیت ہمیشہ دو فریقوں (parties) کے درمیان ہوتی ہے۔ پھر قیامت کی یہ ہار جیت کن دو فریقوں کے درمیان ہوگی۔
اس سوال کا جواب ایک اور آیت بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (2:36) میں ملتا ہے۔ اس کے مطابق یہ ہار جیت انسان اور ابلیس کے درمیان ہوگی۔ زرتشت (Zoroaster) نے کہا تھا کہ دنیا خیر و شر کی طاقتوں کے درمیان مسلسل جنگ کا میدان ہے۔
The world is a perpetual battleground between good and evil forces. لیکن تخلیقی منصوبہ کے مطابق زیادہ صحیح بات یہ ہے ـــ دنیا انسان اور ابلیس کے درمیان مسلسل مقابلہ آرائی کا میدان ہے۔
The world is a perpetual battleground between man and Satan. قرآن کے مطابق موجودہ دنیا امتحان گاہ (testing ground) ہے۔ اس امتحان میں ایک طرف ابلیس اور اس کا لشکر ہے جو مسلسل طور پر یہ کوشش کر رہا ہے کہ انسان کو خدا کے راستہ سے ہٹا کر نفس کے راستہ پر ڈال دے۔ اب جو انسان خدا کے راستہ کو چھوڑ کر اپنے نفس کے راستے پر چلنے لگے وہ شیطان کے مقابلہ میں ہار گیا۔ اس کے برعکس جو انسان ذہنی بیداری کا ثبوت دے، جو شیطان کے بہکاوے کے باوجود خدا کے راستہ پر چلتا رہے اس نے شیطان کے مقابلہ میں جیت حاصل کی۔ ہار جیت کا یہ معاملہ اسی موجودہ دنیا میں پیش آتا ہے۔ قیامت کے دن صرف اس کا اظہار ہوگا۔ مثلاً آپ کو کسی نے مشتعل کر دیا۔ اب اگر آپ امن پر قائم رہے تو آپ جیت گئے اور اگر آپ بھڑک کر تشدد پر اتر آئے تو آپ ہار گئے۔ اگر آپ کو کسی کی بات بری لگ گئی اور آپ نے اس کو نظر