Al-Risala · May 2017 · page 15

ہار جیت کا دن

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۵

ہونے لگتا ہے۔ اس طرح زندگی کے معمولات بری طرح متاثر گاء بگ ہوں انداز کر دیا تو آپ جیت گئے اور اگر آپ غصہ ہو کر اس سے نفرت کرنے لگے تو آپ ہار گئے۔ اگر مقابلہ کی اس دنیا میں آپ پیچھے ہوگئے، آپ نے اپنے پچھڑے پن کا ذمہ دار خود کو بتایا تو آپ جیت گئے اور اگر آپ نے پچھڑے پن کا سبب یہ قرار دیا کہ ایسا دوسروں کی سازش (conspiracy) کی بنا پر ہوا تو آپ ہار گئے۔ اگر کسی نے آپ کے اوپر حملہ کرنا چاہا اور آپ نے اس کو مینج (manage) کیا اور جنگ کی نوبت نہ آنے دی تو آپ جیت گئے اور اگر آپ ردِ عمل (reaction) کا شکار ہو کر اس سے لڑنے لگے تو آپ ہار گئے۔

انسان اور ابلیس کے درمیان یہ جنگ ساری عمر جاری رہتی ہے۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کے بارے میں انسان کو سب سے زیادہ ہوشیار رہنا چاہیے۔ ان مواقع پر جو شخص جیت گیا، آخرت میں وہ فرشتوں کی صحبت میں جگہ پائے گا۔ اور جو شخص شیطان کے بہکاوے کا شکار ہو جائے، اس کا وہ انجام ہوگا جو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ اللہ نے ابلیس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : لمن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ أَجْمَعِينَ (7:18) ۔ یعنی انسانوں میں سے جو کوئی تیری راہ پِر چلے گا تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

* * * * * * *

موجودہ دنیا میں آدمی خواہ کچھ بھی حاصل کرلے لیکن کسی نہ کسی اعتبار سے اس غم کا پہلو شامل رہتا ہے جسمانی تکلیف، نفسیاتی پریشانی، کھونے کا اندیشہ، حادثہ، ، (unfulfilled desire) (boredom) تشنۂ تکمیل خواہش ،(boredom) بیماری، تکان بڑھاپا، موت کا اندیشہ، ملی ہوئی چیزوں کا امپرفکٹ (imperfect) ہونا، عدم یقین (uncertainty)، آدمی کی محدودیت (limitations)، نتیجہ پر کنٹرول نہ یہ بچ ہونا، دوسروں کا خوف ، تردد (tension)، وغیرہ۔

****** رزمه

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page